Imran Khan blames ‘negligence’ of security forces for spike in terror attacks in Pakistanتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم پاکستانی طالبان کو پنپنے کا موقع ملک کی سکیورٹی فورسز کی ‘غفلت’ کی وجہ سے ملا۔ عمران نے خطے میں دہشت گردی کا مشترکہ مقابلہ کرنے کے لیے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ گزشتہ سال اپریل میں اقتدار سے بے دخل ہوئی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے چیئرمین خان نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

انٹرویو میں، 70 سالہ خان نے تحریک طالبان (ٹی ٹی پی)عسکریت پسند تنظیم کے ساتھ مذاکرات کے لیے آگے بڑھنے کے لیے اپنی حکومت کے اقدام کا بھرپور دفاع کیا۔ خان نے کہا کہ سب سے پہلے، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی حکومت کے سامنے کیا آپشن تھے اور انہوں نے ٹی ٹی پی کے بارے میں فیصلہ کیا اور ہم 30,000 سے 40,000 لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، ان میں خاندان بھی شامل تھے، ایک بار جب انہوں(ٹی ٹی پی) نے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا؟ کیا ہمیں ان کو قطار میں کھڑا کر کے گولی مارنی چاہیے تھی یا ہمیں ان کے ساتھ کام کرنا چاہیے تھا اور انھیں دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی؟

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک میٹنگ کی تھی اور خیال یہ تھا کہ دوبارہ آبادکاری سرحدی فاٹا (قبائلی)علاقے کے تمام رہنماو¿ں، سیکورٹی فورسز اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کی جانی تھی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، کیونکہ ہماری حکومت چلی گئی اور جب ہماری حکومت چلی گئی تو نئی حکومت نے اس معاملے پر آنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے اس کا الزام پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی لاپرواہی اور غفلت پر لگایا، جس نے کالعدم تنظیم کو خطے میں پنپنے کا موقع دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *