اسلام آباد: اقتدار میں رہتے ہوئے ہندوستان کے خلاف زہر اگلنے والے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے کرسی چھیننے کے بعد سر بدل گئے ہیں۔ اب انہیں بار بار ہندوستان کی خوبیاں یاد آ رہی ہیں۔ چند روز قبل ہندوستان کی تعریف کرنے کے بعد عمران ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے نظر آئے ہیں۔ عمران خان نے ‘امریکی دباو¿’ کے باوجود روس سے سبسڈی والے تیل خریدنے پر ہندوستان کی کھل کر تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایک آزاد خارجہ پالیسی کی مدد سے اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کی زیرقیادت حکومت پر بغیر سر والے مرغے کی طرح معیشت کے لئے تنقید کی ہے۔
انہوں نے مودی حکومت کی طرف سے گزشتہ روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کی ستائش کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے ہندوستانی حکومت کے فیصلے کے بارے میں جانکاری شیئر کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا’ کواڈ کا حصہ ہونے کے باوجود ہندوستان نے امریکی دباؤ سے خود کو الگ رکھا اور عوام کو راحت دینے کے لیے رعایتی داموں پر روسی تیل خریدا۔ واضح ہو کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے بعد ہفتہ کو پٹرول کی قیمت میں 9.5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔
ہندوستان کی روسی تیل کی درآمدات میں ایک ایسے وقت میں اضافہ ہوا ہے جب مغربی ممالک نے یوکرین پر حملے کے بعد سے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے تیل کے بہت سے درآمد کنندگان روس کے ساتھ کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے افراط زر سے لڑنے کے لیے روس سے سبسڈی والے تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس سے اپریل میں ملک کی خام تیل کی درآمدات ساڑھے تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ سابق پاکستانی وزیر اعظم نے ٹویٹ کیا کہ ہماری حکومت کے نزدیک پاکستان کا مفاد سب سے زیادہ تھا اور ان حکومت عوام کو راحت بہم پہنچانے کے لیے اسی طرح کی کارروائی کرنا چاہتی تھی لیکن بدقسمتی سے مقامی ایم آئی جعفرز اور میر صادق اقتدار کی تبدیلی کے لیے بیرونی دبا و¿کے سامنے جھک گئے۔ اب بغیر سر والے مرغے کی طرح معیشت کے ساتھ ملک چلا رہے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا