India, Iran plan to route Russia trade through Chabaharتصویر سوشل میڈیا

نئی دہلی: ہندوستان اور ایران روس کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شمال جنوبی تجارتی راہداری (آئی این ایس ٹی سی)چالو کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ایران میں چابہار فری زون کے مشیر محمد میری نے کہا کہ ہندوستان اور ایران روس کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے آئی این ایس ٹی سی کو فعال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میری نے مزید کہا کہ سابقہ معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے روس سے ہندوستان کے تجارتی روابط کی جانچ کے لیے آئندہ چھ آٹھ مہینوں میں ماہ میں آزمائشی کھیپ بھیجنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ کھیپ تزویراتی طور پر اہم چابہار بندرگاہ سے گزرے گی جبکہ اس سے قبل 2022 میں کھیپ زیادہ فعال بندر عباس بندرگاہ سے گزری تھی۔

آئی این ایس ٹی سی کو 2001 میں ہندوستان، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے تجارتی راہداری کے طور پر سوچا گیا تھا۔ ایک ہندوستانی تھنک ٹینک سینٹر فار ایئر پاور اسٹڈیز کی ایک تحقیق کے مطابق آئی این ایس ٹی سی کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں۔ 2014 میں کوریڈور سے متعلق درپیش پریشانیوں اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ایک آزمائشی مشق کی گئی تھی۔ اس کے بعد 2015 میں ٹرانزٹ اور کسٹم معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد 2022 میں روس سے ہندوستان تک کوریڈور کا ایک اور آزمائشی تجربہ کیا گیا۔ محمد میری کے مطابق ہندوستان تک تجارتی سازو سامان پہنچانے کے لیے گذشتہ آزمائشی مشق میں ایران کی بندر عباس بندرگاہ کا استعمال کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *