کراچی: بزنس گروپ کی قیادت اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجلی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ اس 80فیصد اضافہ سے نہ صرف عوام کو سخت پریشانی لاحق ہو جائے گی بلکہ تاجر برادری بھی بری طرح متاثر ہوگی۔قب ازیں اس ہفتہ کے اوائل میں بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف لوگ سڑک پر نکل آئے اور مظاہرہ کیا۔ کچھ مظاہرین نے ضلع کورنگی میں بجلی کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے بھی کیے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے دھاوا بول دیا اور کے بجلی دفتر میں فرنیچر کی توڑ پھوڑ کی۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ اور بجلی کی بے حساب لوڈشیڈنگ کے باعث لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبو ر ہونا پڑھاہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں پر اضافی ٹیکس کا بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں۔ مشتعل مظاہرین نے سڑک پر رکاوٹیں لگا کر اور ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر دی۔ مقامی لوگ بھی مظاہرین کے ساتھ آ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی بدتر ہو گئی ہے۔پاکستان میں بجلی کے بلوں پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ چارجز میں زبردست اضافے کے بعد سے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔اس سے قبل 12 اگست کو سچل گوٹھ کے مشتعل رہائشیوں نے طویل اعلان کردہ لوڈ شیڈنگ سے مایوس ہوکر کے الیکٹرک (کے ای) کے دفتر کی طرف مارچ کیا اور اس پر حملہ کیا۔ مظاہرین نے کے ای کے دفتر پر پتھرا و¿کیا اور ان کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق دفتر کے راستے میں مظاہرین نے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف ٹائر بھی جلائے۔ جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ ماہ، وزیراعظم شہباز نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک کو درپیش بجلی کے بڑے بحران کو ختم کرنے کے لیے رکے ہوئے پاور پلانٹس کو بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
ث 