واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن کی منظوری کے باوجود روس کے خلاف مزاحمت کرنے والے یوکرین کو کوئی بھی ملک ایف 16-جنگی طیارے دینے تیار نہیں۔ حالانکہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو، جو روسی جارحیت کو ناکام بنانے کے خواہاں ہیں، اس بات کی اجازت اور منظوری دے دی تھی کہ وہ یوکرین کو ایف 16- لڑاکا طیارے منتقل کر سکتے ہیں اور امریکہ کے اس گرین سگنل کو یوکرین کی افواج اور یورپی ممالک میں جوش و خروش سے دیکھا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یورپ میں امریکی ناٹو اتحادیوں میں سے کوئی بھی ملک جنگ زدہ یوکرین کو ایف16-طیارے( فائٹنگ فالکن) دینے کے لیے آگے نہیں آیا۔
فائٹنگ فالکن نے اپنی پہلی پرواز 1979 میں بھری تھی۔ایک طویل عرصے سے، یوکرین اپنے اتحادیوں پر F-16 طیاروں کی فراہمی کے لیے دباو¿ ڈال رہا ہے۔ صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور کہا کہ ان کا ملک اپنے اتحادیوں کی راہ میں حائل نہیں ہو گا جو یوکرین کو لڑاکا طیاروں کی منتقلی کے خواہاں ہیں۔ تاہم یورپی ممالک اس بات کے منتظرہیں کہ امریکا اس معاملے پر پیش رفت کرے گا۔ امریکا نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کو 43 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے جو ایف 16- کی فراہمی سے مزید بڑھ سکتی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 