Iran: Authorities covering up their crimes of child killings by coercing families into silenceتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) ایران میں 16 ستمبر کو نوجوان کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد حکومت کی تبدیلی کے مطالبات کے دوران مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف ایران کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال شروع کر دیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران میں گذشتہ تین ماہ کے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے 44 بچوں کے نام درج کیے ہیں۔

ایران انٹرنیشنل نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ 34 بچوں کی موت براہ راست گولیوں سے ہوئی۔ 4 کو ڈرون کی گولیوں سے مارا گیا، 5 کی موت لاٹھیوں سے پیٹنے سے ہوئی اور ایک بچہ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے سے ہلاک ہوا۔تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں جنوب مشرقی ایران کے شہر زاہدان میں ایک دو سالہ اور ایک 6 سال کا بچہ بھی شامل ہے، باقی ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 9 سے 18 سال کے درمیان ہیں۔ایمنسٹی نے انکشاف کیا کہ حکومت نے کم از کم 13 بچوں کے خاندانوں پر دباؤ ڈالا اورانہیں ہراساں کیا اور انہیں قتل اور آبرو ریزی کی دھمکیاں دیں۔جبکہ سکیورٹی سروسز نے بچوں کی لاشوں کو کفن میں لپیٹ کر اجتماعی تدفین سے چند منٹ قبل اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔

سکیورٹی فورسز نے خاندانوں کو اپنے پیاروں کی لاشوں کو دور دراز کے دیہاتوں میں دفنانے پر بھی مجبور کیا اور لواحقین کو یادگاری نشانیاں لگانے یا سوشل میڈیا پر مقتولین کی تصاویر پوسٹ کرنے سے روک دیا۔تنظیم کے مطابق 44 بچوں میں سے 40 فیصد صوبہ بلوچستان، جنوب مشرقی ایران میں تھے اور ان میں سے 20 فیصد ملک کے مغرب اور شمال مغرب میں واقع ایرانی کرد شہروں میں مارے گئے۔بتایا جاتا ہے کہ ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے 3 دن بعد 16 ستمبر 2022 کو مہسا امینی کے قتل کے بعد سے پورے ایران میں مظاہرے پھیل چکے ہیں۔ ان پرتشدد مظاہروں میں اب تک مجموعی طور پر458 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *