Iran blames US for its expulsion from UN women's bodyتصویر سوشل میڈیا

تہران: ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیاہے کہ اقوام متحدہ کے خواتین حقوق کمیشن سے اسے برطرف کرنے کی چال چلی ہے ۔ اور اس نے یہ کارروائی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے میں اس کی اقدامات کے جواب میں کی ہے۔ایران وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ امریکہ کا یہ یکطرفہ اقدام یکطرفہ سیاسی تقاضوں کو تھوپنے اور بین الاقوامی میں انتخابی طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کی کوشش ہے۔

واضح ہو کہ 14ستمبر کو مہسا امینی نامی ایک 22سالہ دو شیزہ کو اپنے والدین کے ہمراہ تہران میں بلا حجاب گھومتے دیکھ کر اخلاقی پولس نے گرفتار کر لیا تھا اور گرفتاری کے دو روز بعد پولس حراست میں ہی مہسا کی موت ہو گئی جس کے بعد زبردست احتجاج شروع ہو گیا جس نے بتدریج ملک گیر کل اختیار کر لی۔ اس دوران حکومت ایران نے ان احتجاجوں کو ختم کرنے کے کریک ڈاؤن شرو ع کر دیا اور سلامتی دستوں نے مسلح کارروائی بھی شروع کر دی جس مں متعدد افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار کر لیے گئے۔

ان میں کم و بیش درجن بھر افاد کو ملک کی مختلف عدالتوں نے سزائے موت کا مستحق قرار دیا جن میں سے کم از کم دو مظاہرین کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ایران کے اس اقدام کی عالمی پیمانے پر مذمت کی جانے لگی اور امریکہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے خلاف سخت کارروائی کے طور پر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق خواتین سے ہی نکلوا دیا۔ اس کمیشن کے 54اراکین ہیں ۔جن یں سے 37ممالک نے ووٹ کیے اور ایران کے خلاف یہ تحریک 8کے مقابلے 29ووٹوں سے کامیاب ہو گئی۔ 16اراکین غیر حاضر رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *