Iran carries out second execution over anti-government protestsتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ایک اور شہری کو سیکورٹی فورسز کے 2 ارکان کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سرعام پھانسی دے دی۔ایران کی انقلابی عدالتوں کے نمائندہ خبر رساں ادارے ’میزان‘ کے مطابق ماجد رضا نامی شہری کو مشہد میں سرعام پھانسی دی گئی جسے سیکیورٹی فورسز کے 2 اہلکاروں پر چاقوسے حملہ کرنے کے بعدخدا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ہی 8 دسمبر کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سڑک بند کرنے اور مسلح افواج کے اہلکار کو زخمی کرنے کے الزام میں محسن شیکاری نامی شہری کو پھانسی دے دی گئی تھی جو مظاہرین کو دی جانے والی پہلی سزا تھی۔’میزان آن لائن‘ میں لکھا گیا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ محسن شیکاری کو پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم کے رکن کو چاقو سے زخمی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ محسن شکاری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے اعتراف جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ ملزم پر جھگڑا کرنے، قتل کے ارادے سے ہتھیار اٹھانے، دہشت پھیلانے اور معاشرے کا امن و امان خراب کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایرانی حکام کم از کم 21 افراد کو سزائے موت دلوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ درحقیقت عوامی بغاوت میں حصہ لینے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بنائے گئے جعلی ٹرائلز ہیں۔16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بن چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *