Iran consulate in Balkh provides cash to blast victimsتصویر سوشل میڈیا

کابل: شمالی مزار شریف شہر میں مسجد دھماکے کے متاثرین کے لواحقین کو مزار شریف میں ایرانی قونصلیٹ جنرل سے نقد امداد جاری کی گئی۔ اپنے پیاروں کو کھونے والے23 خاندانوں کو 500 ڈالرز اور 63 خاندانوں کو جن کے افراد زخمی ہوئے انہیں 300 ڈالر ملے۔یہ اقدام ایک دھماکے کے بعد ہوا ہے جس میں جمعرات کو مزار شریف کی شی دوکان مسجد میں نماز ادا کرنے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے میں 30 سے زائد نمازی جاں بحق اور 87 زخمی ہوئے۔

قونصل جنرل نے کہا کہ خاندانوں کو نقد امداد کے علاوہ خوراک، ادویات اور کپڑوں کے پیکج بھی ملیں گے۔ قونصلیٹ جنرل کے سربرا ہ سید حسین یحییٰ نے کہا کہ ایک فوجی طیارہ ایران سے مزار شریف میں انسانی امداد لے کر آرہا ہے جس میں خوراک، ادویات اور کپڑے شامل ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ متاثرین کے خاندانوں اور ضرورت مندوں کے درمیان صحیح طریقے سے تقسیم کیے جائیں گے۔

سید حسین نے مزید کہا کہ امداد لینے کے لیے جمع ہونے والے خاندانوں نے کہا کہ ان میں سے تقریباً سبھی معاشی پریشانیوں سے نبرد آزما ہیں۔مزار شریف کے رہائشی عطا محمد نے دھماکے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نماز کی نیت باندھی ہی تھی کہ زبردست دھماکہ ہوا ہر طرف دھواں اور گرد و غبار تھا سب دہل اٹھے اور کپکپاہٹ چھوٹ گئی ۔مزار شریف کے ایک اور رہائشی محمد عارف نے اس واقعے میں اپنا 20 سالہ بیٹا کھو دیا۔ محمد عارف نے دھماکے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور کہا کہ ان واقعات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ان واقعات کی روک تھام ہونی چاہیے، کب تک لوگ شہید ہوتے رہیں گے۔ لوگوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک مشکلات کا سامنا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *