واشنگٹن:وہائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے روس کو سینکڑوں ڈرون فراہم کر کے یوکرین پر روسی حملوں میں شدت پیدا کرنے کے لیے معاونت کی۔قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کے مطابق ایران نے گزشتہ اگست سے اب تک روس کو توپ کے گولوں اور توپ خانے کے ساتھ ساتھ 400سے زیادہ ڈرونز فراہم کیے ہیں۔ کربی نے بتایا کہ روس نے یوکرین میں اہم بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر نے کے لیے زیادہ تر عدم موجودپائلٹ ڈرون طیارے استعمال کیے ہیں۔
روس نے ان ڈرونز میں سے زیادہ تر یوکرین کے اہم بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کے لیے استعمال کیے۔ ان کے مطابق، روس اب اس سے بھی زیادہ جدید ڈرونز ، جو زیادہ نقصان پہنچانے اور تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،حاصل کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ کربی نے مزید کہا کہ روس اس کے عو ض ایران کو میزائل، الیکٹرونکس اور فضائی دفاعی نظام بہم پہنچا رہا ہے۔علاوہ ازیں ایران نے روسی جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کر بھی رکھا ہے۔
جان کربی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران روس سے جنگی ہیلی کاپٹروں اور راڈار یاک130-جنگی تربیت طیارے سمیت اربوں ڈالر مالیت کا اضافی عسکری ساز و سامان خریدنا چاہتا ہے۔ کربی نے مزید کہا کہ یوکرین پر حملے کے آغاز سے ہی ایران روس کا اہم فوجی سرپرست بنا ہواہے۔ 8 مارچ کو برطانوی ٹی وی چینل اسکائی نیوز نے اطلاع دی تھی کہ ایران نے خفیہ طور پر لاکھوں گولہ بارود اور لاکھوں گولے روس کو سمندر کے راستے منتقل کیے ہیں۔کربی نے مزید کہا امریکہ اس میں ملوث فریقوں پر جلد ہی پابندیاں لگانے کا اعلان کرے گا۔
تصویر سوشل میڈیا 