Iran indicts 1,000 over unrest, plans public trials-reportتصویر سوشل میڈیا

دوبئی: ایران نے پولس حراست میں مہسا امینی نام کی لڑکی کی موت پر مظاہروں پر قابو پانے اور مظاہرین کے خلاف کارروائی میں شدت اور تیزی لاتے ہوئے سخت اقدامات شروع کر دیے۔اس ضمن میں ایک نیم حکومتی خبر ساں ایجنسی نے بتایا کہ ایران میں بد امنی پھیلانے کے ملزم قرار دیے گئے 1000افراد کے خلاف مقدمات کی عوامی سماعت ہو گی۔

تقریباً سات ہفتے پرانا احتجاج، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے علما کے رہنماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، زبردست کریک ڈاؤن اور، پاسداران انقلاب کی جانب سے دو ٹوک انداز میں مظاہرین کو سڑکوں سے دور رہنے کے سخت انتباہات کے باوجود جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کے 22 سالہ بیٹے کو دو روز قبل ابتدائی عدالتی سماعت میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ مدد کی اپیل کر رہی ہے ۔ایرانی رہنماو¿ں نے احتجاج کو امریکہ سمیت دشمنوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے اور مظاہرین کے خلاف، جنہیں انہوں نے فسادی قرار دیا ہے، سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *