Iran launches new strikes against Kurdish groups in Iraqتصویر سوشل میڈیا

استنبول:(اے یو ایس ) ترکی کے بعد ایران نے بھی شمالی شام اور عراق میں نئے حملے شروع کر دئیے ۔ترکی کے حملوں کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد ایران نے ہمسایہ عراقی کردستان میں تعینات ایرانی کرد اپوزیشن گروپوں کو نشانہ بنایا ہے۔کردستان میں انسداد دہشت گردی کی خدمات نے تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب نے ایک بار پھر کرد-ایرانی جماعتوں کو نشانہ بنایا ہے اور یہ حملے اتوار کی رات سے جاری ہیں۔ جو تقریبا ًنصف شب کو شروع کئے گئے تھے۔ بیان میں ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی تفصیل نہیں بتائی گئی ۔ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور ایرانی کرد قوم پرست کوملا تنظیم نے تصدیق کی کہ حملوں میں اس خطے میں ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے پیر کو ٹوئٹر پر کہا کہ اسے اربیل کے قریب دو مقامات کو میزائل حملوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی سب سے پرانی کرد پارٹی نے، جس کی بنیاد 1945 میں رکھی گئی تھی، کہا کہ یہ اندھا دھند حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی حکومت مغربی ایران کے کردستان میں جاری مظاہروں کو روکنے میں ناکام ہے۔

دوسری طرف سرکاری عراقی نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ کردستان کے اندر تین ایرانی اپوزیشن جماعتوں کے ہیڈ کوارٹرز پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے بمباری کی گئی ہے ۔اس سے قبل العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی تھی کہ اربیل اور سلیمانیہ کے 3 علاقوں کو ایرانی میزائل حملوں نے نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اربیل میں امریکی قونصل خانے نے بمباری کے بعد خطرے کے سائرن بجائے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد پر کرد علاقوں پر ایرانی زمینی حملے کا خدشہ ہے۔عراقی میڈیا نے بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایرانی ڈرون نے اربیل میں ایرانی کرد مہاجرین کے کیمپ پر بمباری کی۔اس ایرانی بمباری سے ایک روز قبل ترکی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ ترکی کی فضائیہ نے شمالی شام اور عراق میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کرکے 89 اہداف کو تباہ کردیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ہفتہ قبل استنبول میں کئے گئے حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

یاد رہے استنبول بم دھماکے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ترکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی اور شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ترکی نے یہ بھی کہا تھا کہ حملوں میں عراق میں قندیل، اسوس اور ھاکورک اور شام میں کوبانی، تل رفعت، الجزیرہ اور دیرک کو نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے انقرہ شمالی عراق میں متواتر فضائی حملے کرتا ہے۔ شمالی عراق میں ترکی نے کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف طویل مدتی مہم کے ایک حصے کے طور پر اپنی کارروائیوں میں مدد کے لیے کمانڈوز بھی تعینات کیے تھے۔اسی طرح ستمبر کے وسط سے شمالی عراق میں ایرانی حملے بھی کئے گئے تھے۔ 14 نومبر کو بھی تہران نے عراقی کردستان پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *