تہران:ایران کی فٹبال فیڈریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ایران میں خواتین، جنہیں طویل عرصے سے فٹ بال میچوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا، انہیں آئندہ سیزن کے دوران فٹبال میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے اتوار کے روز اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس سال، اس لیگ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہم ا سٹیڈیم میں خواتین کو داخل ہوتا دیکھ سکیں گے۔ مہدی تاج نے یہ بات ایران کی اعلیٰ سطحی فٹ بال لیگ کے آئندہ سیزن کی قرعہ اندازی کی تقریب کے براہ راست نشریات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ 16 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ اگلے ماہ شروع ہونے والا ہے۔ ایران نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے خواتین تماشائیوں کو فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے اسٹیڈیموں میں جانے پر کافی حد تک پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ایران نے دلیل دی ہے کہ خواتین کو مردانہ ماحول اور نیم پوش مرد کھلاڑیوں کی نظروں سے بچایا جانا چا ہئے۔ بعض حکام نے کھیلوں کی سہولتوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ تاج نے کہا کہ اصفہان، کرمان اور اہواز کے شہروں میں کچھ اسٹیڈیم خواتین کی میزبانی کے لیے تیار تھے۔ اگست میں 2019خواتین کو برسوں میں پہلی بار قومی فٹ بال چیمپئن شپ کے میچ میں شرکت کی اجازت دی گئی، جب تہران کے کلب استقلال نے میس کرمان سے مقابلہ کیا۔
اکتوبر 2019 میں بھی تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں کمبوڈیا کے خلاف ایران کے 2022 ورلڈ کپ کوالیفائر میں تقریباً 4,000 خواتین کو شرکت کی اجازت دی گئی۔ 2019 میں فٹ بال شیدائی سحر خدااری کی، جس نے ایک مرد کے بھیس میں ایک میچ میں شرکت کرنے کی کوشش کرنے کے بعدجیل جانے کے خوف سے خود کو آگ لگا لی،موت کے بعد ایران کو خواتین کو میچوں میں شرکت کی اجازت دینے کے لیے بڑھتے ہوئے دباو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ خدااری اپنے پسندیدہ کلب استقلال کے رنگوں کی وجہ سے نیلی لڑکیکے نام سے مشہور ہوئی۔
تصویر سوشل میڈیا 