Iran rejects Biden's support to protests as interferenceتصویر سوشل میڈیا

تہران:(اے یو ایس ) ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی حمایت پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ایران نے امریکی حمایت کو ریاست کے معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے امریکی صدر نے بار بار مداخلت کرنے والے بیانات کے ذریعے ایران میں بدامنی کی حمایت کی ہے۔ چونکہ بائیڈن کے پاس قابل اعتماد مشیر نہیں اور ان کی یادداشت اچھی نہیں لہذا میں انہیں یاد دلاتا ہوں کہ ایران اتنا مضبوط اور ثابت قدم ہے کہ وہ آپ کی سخت سزاؤں اور مضحکہ خیز دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکا ہے۔

تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ آپ گندے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے عادی ہیں، لیکن یاد رکھیں یہ ایران ہے، جو قابل فخر مردوں اور عورتوں کی سرزمین ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر بائیڈن نے ایران میں پرامن مظاہرین کے کچلنے کی رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ واشنگٹن سول سوسائٹی کو دبانے کے لیے تشدد کے استعمال میں ملوث ایرانی حکام اور اداروں کو جوابدہ ٹھہرائے گا۔

بائیڈن نے اپنے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں پر اپنی حیرانی کا اظہار بھی کیا تھا۔دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ جیل میں بدامنی اور آگ لگنے کے بعد ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اتوار 16 اکتوبر کو ایک ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ ایران بے قصورحراست میں لیے گئے ہمارے شہریوں کی حفاظت کا مکمل ذمہ دار ہے۔ ان افراد کو فوری رہا کیا جانا چاہیے ۔خیال رہے کہ ہفتے کے روز تہران کی ایون جیل میں آگ لگ گئی تھی، اس جیل میں بہت سے سیاسی قیدی اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد قید ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *