Iran Slams European Plans To Sanction IRGC Over Protestsتصویر سوشل میڈیا

برلن:(اے یو ایس )ایران نے اپنی سرزمین پرہونے والے احتجاج سے نمٹنے کے اقدامات پر غیر ملکی تنقید کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور پاسداران اسلامی انقلاب (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے جرمنی اور یورپی یونین کے منصوبے کی مذمت کی۔خارجہ ترجمان ناصر کنعانی نے ہفتہ واری پریس کانفرنس میں کہا کہ پاسداران انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کی باقاعدہ ایک حکومتی فوجی تنظیم ہے اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنا سراسر غیر قانونی عمل ہوگا۔

واضح ہو کہ جرمنی اور یورپی یونین نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے پر غور وخوض شروع کر نے کا اعلان کیا تھا۔ یہ بات جرمن وزیر خارجہ اینا لینا بیر باک نے گذشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں نے پچھلے ہفتے یہ واضح کردیا تھا کہ ہم ایران پر نئی پابندیاں لگائیں گے۔ ہم اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ایران کے پاسدران انقلاب کو کس طرح دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال سکتے ہیں۔

ان کے یہ خیالات پاسدران انقلاب ایران کے اس انتباہ کے بعد سامنے آئے ہیں جو اس نے ایرانی مظاہرین کو کیا ہے کہ’ ہفتے کا روز احتجاج کا آخری دن ہو گا اور اس کے بعد کوئی گلیوں میں احتجاج کے لیے نہیں نکلے گا۔’اس بیان کو اس طرح لیا گیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف اپنی پر تشدد کارروائیوں میں مزید شدت اور مضبوطی لانے والی ہیں۔

جرمنی نے اس سے بھی پہلے یعنی پچھلے ہفتے اعلان کر دیا تھا کہ وہ ایران کے لوگوں پر جرمنی میں داخلے کے حوالے سے پابندیاں سخت کرنے والا ہے۔یہ پابندیاں ان کے علاوہ ہوں گی جو یورپی یونین لگا چکی ہے۔ وزیر خارجہ نے بھی بتایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملات پر ان دنوں کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *