Iran supreme leader blames US, Israel for Mahsa Amini protestsتصویر سوشل میڈیا

تہران: ایران رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ وہ بھی اخلاقی پولیس کی حراست میں 22 سالہ لڑکی کی موت پر افسردہ ہیں لیکن اس کے خلاف احتجاج میں ملک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہیے ۔ رہبر اعلیٰ نے کیڈٹس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ازلی دشمنوں امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ مہسا کی موت پر ملک گیرپیمانے پر فساد بھڑکا رہے ہیں۔رہبر اعلیٰ نے کہا کہ میں ببانگ دہل یہ کہتا ہوں کہ ملک میں فسادات اور عدم تحفظ امریکہ اور فاسق صیہونی ریاست نیز ان کے کرایے کے ٹٹو کچھ بیرون ایران سرگرم غداروں کی مدد سے برپاکیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر مہسا امینی کی حراستی موت کا واقعہ نہ بھی ہوا ہوتا تو امریکہ اور اسرائیل کسی اور بہانے سے ملک میں فسادات برپا کراتے کیونکہ وہ پہلے ہی اس کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان واقعا ت اور صورت حال سے ایرانی قوم گھبراتی نہیں ہے لیکن یہ ضرورکہوں گا کہ ایرانی قوم ناانصافی کا شکار ہوئی ہے لیکن وہ امام علی علیہ السلام کے سپہ سالار کی طرح مضبوط ہے۔ واضح ہو کہ شمال مغربی ایران کے کرد شہر سقز کی رہائشی مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نے گذشتہ ماہ کے وسط میں گرفتار کیا تھا لیکن گرفتاری کے تین روز بعد وہ پولس حراست میں مبینہ تشدد کے بعد اسپتال میں داخل کر دی گئی تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں ۔

ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو نہ تو بیٹی کی حالت کی تفصیلات بتائیں اور نہ ہی مہسا ا کا سی ٹی ا سکین دکھایا۔خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ مہسا کی میت کو فرانزک آفس میں ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مہسا کے والد بھی اپنی بیٹی کی ٹانگ کے چھوٹے سے حصے کو دیکھ سکے تھے، ٹانگ کے اس حصہ پر انہیں زخم نظر آئے تھے۔مہسا امینی کی موت سے ایران بھر میں اشتعال پھیل گیا اور مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔مظاہروں میں خواتین پیش پیش ہیں اور بہت سی خواتین نے دوران احتجاج سروں سے دوپٹے اتار کر نذر آتش کردئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *