Iranian lawmakers demand ‘no leniency’ for protesters as mass demonstrations continueتصویر سوشل میڈیا

تہران: ایران کے اراکین پارلیماں نے، ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی جانب سے مظاہرین کو گرفتار کر لیے جانے کی دھمکی کے باوجود عوام کا سڑکوں پر احتجاج جاری ہے، ملک کی عدلیہ سے پر زور اپیل کی کہ احتجاجیوں کے تئیں ذہ برابر نرمی یا ہمدردی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ اس ضمن میں قانون سازوں کے دستخط والے عدلیہ کو ارسال کردہ مکتوب کو سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔اس کھلے مراسلہ میں جس پر ایران کے 290اراکین پارلیماں میں سے 227نے دستخط کیے، استدعاکی گئی ہے کہ حکومت ایران کی حکمرانی کو کے لیے خطرہ بننے والے دیگر لوگوں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے احتجاجیوں کو سخت سبق دیا جائے۔

واضح ہو کہ گذشتہ ماہ ایک 22سالہ دوشیزہ مہسا امینی کو والدین کے ہمراہ بغیر حجاب کے تہران کی سڑکوں پر گھومتا پاکر اخلاقی پولس نے گرفتار کر لیا تھا اور گرفتاری کے دو روز بعد مہسا پولس کی حراست میں موت ہو گئی تھی۔سرکاری پریس ٹی وی سے جاری کردہ خط میں قانون سازوں نے لکھا کہ ہم، اس ملک کے نمائندے، عدلیہ سمیت تمام ریاستی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ ،جنہوں نے اسلامی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ ی اور داعش کے دہشت گردوں کی طرح لوگوں کی جان و مال پر حملہ کیا، ایسا بدترین اور عبرتناک سلوک کیا جائے جو کم سے کم ممکنہ وقت میں ایک اچھا سبق بن سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *