Iranian President Ebrahim Raeisi orders officials to pursue Issue of Helmand Water Treatyتصویر سوشل میڈیا

تہران :ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے افغانستان کے ساتھ ہلمند آبی معاہدے میں پیش رفت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے حکومتی بورڈ کے اجلاس میں ایرانی حکام کو ہلمند آبی معاہدے کے معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ رئیسی نے ملک کی وزارت خارجہ اور توانائی کی وزارت سے کہا کہ وہ س معاملے میں پیش رفت کرنے کو ترجیحی بنیاد پر کام کریں۔

افغانستان میں ایران کے سفیر حسن کاظمی قمی نے ایران کے 3 میڈیا نیٹ ورک آرگنائزیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہلمند آبی معاہدہ کا مسئلہ رواں سال میں طے پا جائے گا۔ افغانستان سے ہماری سرزمین میں آنے والے پانی کی مقدار 27 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آ بی معاہدے میں مذکور مقدار اور پانی جاری کرنے کی مقدار میں بڑا فرق ہے۔

امارت اسلامیہ کی وزارت توانائی کے ترجمان مطیع اللہ عابد نے کہا کہ افغانستان ہلمند آبی معاہدے کا پابند عہد ہے۔ ہم نے 1351 (شمسی سال) کے ہلمند آبی معاہدے کی بنیاد پر ایران کے لیے پانی مختص کیا ہے اور ہم آئندہ بھی اس معاہدے کے پابند ہیں۔تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران ہلمند آبی معاہدے میں طے شدہ مقدار سے زیادہ پانی چاہتا ہے۔ آبی امور کے ایک تجزیہ کار محمد عاصم مایار نے کہا کہ اگر دریائے ہلمند کا پانی سالانہ 6 بلین کیوبک میٹر ہے تو ایران 820 ملین کیوبک میٹر پانی کا مستحق ہے۔ لیکن اگر کوئی معمول کے مطابق نہیں ہے، یا خشک سالی ہے تو پانی مقدار کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے۔ 1973 کے معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے ایران کے ساتھ 26 کیوبک میٹر پانی فی سیکنڈ یا 850 ملین کیوبک میٹر سالانہ کی شرح سے آبی تقسیم کے لیے پابند عہد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *