تہران:گزشتہ چند سالوں کے دوران ایران نے توانائی کی نئی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور تیل کی برآمدات میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی تیل اور گیس کی صنعت پر امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کو تیزی سے نظر اندازکرنا شروع کر دیا اور امریکہ نے ایران کے ان اقدامات کو بڑی حد تک اس امید میں نظر انداز کر دیا کہ ایران بالآخر ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دے گا لیکن یہ امید ابھی تک بر ہوتی نظر نہیں آرہی۔ جبکہ ایران کی تیل صنعت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
ایسی صورت میںکیا امریکہ جوہری مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوتا دیکھ کر ایرانی تیل اور گیس پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دے گا یا اس سے چشم پوشی کرتا رہے گا ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا فی الحال جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔مئی میں ایران کی تیل کی برآمدات1.5 ملین بیرل یومیہ( بی پی ڈی) سے زیادہ تک پہنچ گئیں جو امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر پابندیاں عائد کرنے سے پہلے 2018 کے بعد سے یعنی پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے ۔
ایران نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی تیل کی پیداوار 3 ملین بی پی ڈی سے زیادہ کر دی ہے جو کہ عالمی سپلائی کا تقریباً 3 فیصد ہے۔جبکہ پابندیوں سے پہلے، ایران کی تیل کی برآمدات تقریباً 2.5 ملین بی پی ڈی تھی۔ ایرانی خام تیل کی خریداری خطرے کے بغیر نہیں ہے کیونکہ اس پر سخت پابندیاں عائد ہیں، اور اگر ایران جوہری معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا ہے تو امریکہ ان پابندیوں کو مزید سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران خطرہ مول لینے کے خواہشمند ممالک کے ساتھ ساتھ ان ریاستوں کے ساتھ بھی شراکت داری کر رہا ہے جو پابندیاں ہٹائے جانے کی صورت میں خام تیل درآمد کریں گی۔ ایران تیل خریدنے والوں بشمول چین کے لیے تیل رعایت پر فروخت کر رہا ہے۔ اس کے کم قیمت والے تیل نے چینی ریفائنرز کو کم منافع کے مارجن پر قابو پانے میں مدد کی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 