Iraq Economy Reels as U.S. Moves Against Money Flows to Iranتصویر سوشل میڈیا

نیویارک (اے یو ایس)امریکی اور عراقی حکام نے کہا ہے کہ نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے نومبر 2022 میں عراقی کمرشل بینکوں کے ذریعے بین الاقوامی ڈالر کے لین دین پر سخت کنٹرول نافذ کرنا شروع کیا۔۔ اس اقدام کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنا اور ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے غیر قانونی طور پر ڈالر کی ضبطی کوروکنا اور پابندیوں کی خلاف ورزی کے خلاف سخت سزاو¿ں کا نفاذ تھا۔ اس اقدام سے عراقی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد تک گر گئی کیونکہ ڈالر میں بین الاقوامی لین دین پر کنٹرول لاگو کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے اخبار ” وال سٹریٹ جنرل “ میں مزید کہا کہ عراق کو تہران اور دمشق کے لیے منی لانڈرنگ کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ عراق سے باہر جعلی رسیدوں کی بنیاد پر ڈالروں میں رقم نامعلوم افراد کو منتقل کی گئی۔ بینکاروں نے تصدیق کی کہ عراق میں داخل نہ ہونے والی اشیا کے لیے ڈالر میں رسیدیں تیار کی گئی ہیں۔ اخبار ”وال سٹریٹ جنرل “کے مطابق امریکی حکام کا مقصد بد نیتی پر مبنی جماعتوں کو عراقی بینکوں کو استعمال کرنے سے روکنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق عراق میں نقدی کی منتقلی کے کنٹرول کا مقصد تہران کو سمگلنگ کو روکنا ہے۔عراق میں مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 1610 دینار فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ قیمت سرکاری مارکیٹ میں 1459 دینار فی ڈالر پر آ گئی ہے۔ سرکاری اور متوازی مارکیٹ میں قیمت کے درمیان 10 فیصد سے زیادہ کا فرق دیکھا جا رہا ہے۔ ڈالر کی گراوٹ کے ساتھ عراقی اپنے پیسے بچانے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونا خریدنے کے لیے دوڑ پڑے ہیں۔ عراق میں سب سے زیادہ عام 21 قیراط میں سونے کا اونس تقریبا 78 ہزار 530 دینار کا ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *