بغداد(اے یو ایس ) عراق میں فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن نے متعدد عرب اور غیر ملکی ممالک کے ساتھ رقوم کی بیرون ملک واپسی سے واپسی اور عوامی پیسے کی چوری میں ملوث افراد کی حوالگی کے حوالے سے ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔فیڈرل انٹیگریٹی کمیشن کے سربراہ جسٹس حیدر حنون نے سال 2022 کی سالمیت کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے سالانہ کانفرنس کے دوران کہا “گذشتہ مرحلے کے دوران ہم نے عراقی حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے تعاون سے بدعنوانی کے خلاف جنگ میں بڑی پیش رفت کی ہے۔ ہم اگلے مرحلے کے دوران بدعنوانی سے نمٹنے میں مزید کامیابیاں اور بنیادی تبدیلیاں کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن جلد ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسمگل شدہ رقوم کی بازیابی اور ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کرے گا۔
انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ انٹیگریٹی کمیشن بدعنوانی کے عمل کو توڑنے اور ملوث افراد کو عراق کے حوالے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔انٹیگریٹی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالتی اداروں نے عراقی ریاست میں 44 وزرائ اور ان کے عہدے کے 244 خصوصی گریڈز اور جنرل منیجرز سے بدعنوانی کے مقدمات اور 32 ارب 859 ملین عراقی دینار سے زائد کی وصولی کے حوالے سے تحقیقات کیں۔دوسری جانب عراق میں سکیورٹی میڈیا سیل نے کل سلیپر سیل سے 10 دہشت گردوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔میڈیا سیل نے اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “وزارت داخلہ میں وفاقی انٹیلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسی نے مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان میں سے دو نام نہاد خودکش بمبار بٹالین کے لیے کام کرتے تھے۔
تصویر سوشل میڈیا 