Yaqoob Mujahid denies internal disputes within Islamic Emirateتصویر سوشل میڈیا

کابل:امارت اسلامیہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں کسی کا بھی ایسا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہو۔اس ضمن میں ملک کے نگراں وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے کہا کہ ملک میں اسلامی قوانین کے منافی مطالبات کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ طلوع نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے محمد یعقوب مجاہد نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت عالمی برادری کے بعض مطالبات کو کبھی تسلیم نہیں کرے گی۔ کیونکہ وہ اسلامی شریعت اور افغان ثقافت کے خلاف ہیں۔ محمد یعقوب مجاہد کے مطابق ایک جامع حکومت کی تشکیل، تعلیمی مسائل اور اظہار رائے کی آزادی ملک کے اندرونی مسائل ہیں اور دنیا کو ایسے مسائل میں مداخلت نہیں کرنی چا ہئے۔ غیر ملکیوں کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

نگراں وزیر دفاع نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کس قسم کی حکومت ہے، اور طرز حکومت کیسا ہونا چاہئے، کس کو حکومت میں ہونا چا ہئے اور کس کو نہیں ہونا چاہئے، تعلیمی نظام کیسا ہونا چاہئے اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے آپ کا برتاو¿ کیسا ہونا چاہئے اس سلسلہ میں ماضی میں ہماری پالیسی یہی رہی ہے کہ ان معاملات میں افغان خود فیصلہ کریں۔

امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے یعقوب نے کہا کہ اب امریکہ دوستی کے راستے پر نہیں بلکہ امارت اسلامیہ کے ساتھ دشمنی کی راہ پر گامزن ہے۔اور اس کے تئیں اس نے معاندانہ رویہ اختیار کر کھا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے کہا کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے اور ہم امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ افغانستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں اس کو اپنے فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چا ہئے یعقوب نے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ امارت اسلامیہ اپنے پڑوسیوں سمیت تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس وعدے کا اعادہ کیا کہ امارت اسلامیہ کبھی بھی پڑوسی ممالک سمیت دیگر اقوام کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *