کابل: روس نےافغانستان کے حوالے سے ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے امارت اسلامیہ کو مدعو کیا ہے۔ اس ضمن میںروس کے سفیر متعین افغانستان دمتری ڑیرنوف نے کابل میں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات میں متقی سے کہا کہ وہ ماسکو فارمیٹ کے آئندہ اجلاس میں ، جو افغانستان پر ہونے جا رہا ہے،شرکت کریں۔وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکال نے کہا کہ قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس علاقائی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
متقی نے روسی سفیر سے افغان تاجروں اور شہریوں کے لیے ویزوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کہا۔ تکال نے مزید کہا کہ روسی سفیر نے افغانستان کے حوالے سے ہونے والے ماسکو فارمیٹ اجلاس سے متعلق معلومات وزیر خارجہ کو کے گوش گذار کیںاور ماسکو فارمیٹ کے آئندہ اجلاس میں قائم مقام وزیر خارجہ کو مدعو کیا۔کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی اسلامی امارات کو چاہئے کہ ان اجلسوں کو وہ ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات مست´حکم کرنے کے لیے استعمال کریں۔
ایک سیاسی تجزیہ کار جنت فہیم چکری نے کہا کہ اگر افغانستان کے مفادات کسی ملک میں دکھائی دیتے ہیں اور وہ روس یا چین جیسی سپر پاور ہیں اور یہ افغانستان کے مفاد میں ہے، تو افغانستان کو فوری طور پر متحرک ہو جانا چاہئے اور قومی مفادات میں اپنی راہ و رسم بڑھانی چاہئے۔ ایک دیگرسیاسی تجزیہ کارعزیز مریج نے کہا کہ اگر افغانستان کے پاس پختہ ایجنڈا، ٹھوس پروگرام اور با معنی مذاکرات ہوں گے تو ایک کارنامہ ہو گا، ورنہ اجلاس اور اس کا نتیجہ بے سود ہو گا۔یہ اس وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں روس نے افغانستان کی صورتحال پرتین بار ماسکو فارمیٹ کا اجلاس منعقد کیا اور صرف ایک اجلاس میں امارت اسلامیہ کا نمائندہ مدعو کیا گیا۔
تصویر سوشل میڈیا 