کابل: امارت اسلامیہ نے افغانستان کے منجمد فنڈ کے حوالے سے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔امارت اسلامیہ نے پیر کی شب جاری ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے افغانستان کے اثاثوں کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو امارت اسلامیہ کو ملک کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
امارت اسلامیہ نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ا مریکی بینکوں میں رکھے گئے افغان اثاثوں کو منجمد کر دیا اور اب وہ اسے ضبط کرنا چاہتا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ اگر مریکہ دنیا کے الزام سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور افغانستان سے اپنے تعلقات بگانا نہیں چاہتا تو اسے اپنا فیصلہ واپس لینا پڑےگا اور غیر مشروط طور پر افغانوں کے اثاثہ جات جاری کرنا ہوں گے۔بین میں مزید کہاگیاہے کہ امریکہ کو اس قسم کی اشتعال انگیز حرکتوں سے جس سے دو نوں ممالک کے درمیان مزید عدم اعتماد بڑھے اجتناب برتنا چاہئے۔
امارات اسلامیہ نے مزید کہا کہ نائن الیون کا افغانوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نائن الیون کے متاثرین کو معاوضہ دینے کے بہانے افغان عوام کی املاک پر قبضہ بین الاقوامی اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ افغانستان کے اثاثوں کے بارے میں امریکہ کے حالیہ فیصلے کا اعلان امریکہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی صریح مخالفت ہے۔اس سے قبل امریکی صدر نے نائن الیون حملوں کے متاثرین کو افغان رقم سے معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔یاد رہے کہ افغانستان کے منجمد فنڈ کے حوالے سے جو بائیڈن کے فیصلے پر افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا