کابل:امارت اسلامیہ افغانستان نے کہا ہے کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشت پسند تنظیم سرگرم نہیں ہے نیز کسی کو اس ضمن میں فکر مند یا تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے دوحہ میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے شرکا کے خدشات بے بنیاد ہیں ۔، کریمی نے مزید کہا کہ کسی بھی فریق کو افغانستان میں سلامتی کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔
واضح ہو کہ دوحہ اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ اجلاس کے شرکا افغانستان کے استحکام کے بارے میں فکر مند ہیں اور انہوں نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خطرے کی مسلسل موجودگی سے ملک، خطے اور دیگر ممالک کو لاحق خطرات کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔علاوہ ازیں شرکا نے حکومت میں نسلی گروہوں کی شمولیت کے فقدان نیز طالبان کے حالیہ فیصلے سے بری طرح مجروح ہوئے انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق شامل ہیں، سخت تشویش کا اظہار کیا۔
گوٹیرس نے یہ بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ مستقبل میں بھی اسی طرح کا اجلاس بلائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے مختلف آراپیش کیں۔ ایک سیاسی تجزیہ کار توریالائی زازئی نے کہا اس وقت تک کوئی امید نہیں جب تک طالبان دنیا اور اقوام متحدہ کی جائز خواہشات کو تسلیم نہیں کرلیتے۔ایک سیاسی تجزیہ کار نعمت اللہ بزہان نے کہا کہ دوحہ اجلاس کا مقصد افغانستان کے حوالے سے ایک فریم ورک بنانے کے بارے میں تھا اور مجھے دوحہ اجلاس سے افغانستان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی توقعات تھیں اور مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچ پائیں گے ارزگان کے ایک رہائشی صفی اللہ عزیز نے کہا کہ اس اجلاس میں امارت اسلامیہ کے نمائندے کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ قومی اتفاق رائے پیدا کر سکیں۔ دوحہ میں یہ اجلاس دو دن تک جاری رہا اور اس میں شریک 22 سے زیادہ ممالک اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تصویر سوشل میڈیا 