یروشلم: اسرائیل کی پارلیمنٹ نے عدالتی اختیارات کو محدود کرنے والا ایک متنازعہ بل صوتی رائے دہندگی سے اختیار کر لیا ۔ اس بل کی رو سے ، جس نے ملک و قوم کو تقسیم کر دیا ،عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو کی انتہاپسند دائیں بازو حکومت کی تجویز کردہ ترمیمات نے جنوری میں اپنے اعلان کے بعد سے ،جس کے بعد دسیوں ہزار مظاہرین اسرائیل کے نظام انصاف کی منصوبہ بند تبدیلی کو روکنے کا مطالبہ کر تے ہوئے ہفت روزہ جلسے جلوس کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے،ملک کی اب تک کی سب سے بڑی احتجاجی تحریکوں میں سے ایک کی چنگاری بھڑکائی ہے۔
جنوری میں اس اعلان کی سخت مخالفت اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی بشمول امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے زبردست تنقید کے بعدیتن یاہو نے تجاویز پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مارچ میں اس منصوبے پر عمل آوری کو وقتی طور پر روک دیا تھا۔لیکن اسرائیل کے دو اہم اپوزیشن لیڈروں یائر لاپڈ اور بینی گینٹز کے مذاکرات سے دستبردار ہونے کے بعد، نیتن یاہو نے اب اس کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے ایک نئی کوشش کی۔ پارلیمنٹ کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد بل کو پہلے مرحلہ میں 56 کے مقابلے 64 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔بل پر بحث سے پہلے کچھ مظاہرین کنیسٹ کی عمارت میں داخل ہوگئے جنہیں گھسیٹ کر باہر نکالنا پڑا جبکہ سینکڑوں مظاہرین پارلیمنٹ سے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔
