Israel's Netanyahu looks to vote in new government on Thursdayتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب:(اے یو ایس ) ایک بار پھر اسرائیل کے وزیر اعظم بننے والے بنجامن نتن یاہو جمعرات کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں بطور وزیر اعظم ووٹ لیں گے۔ یہ بات کنیسٹ کے ا سپیکر نے پیر کے روز بتائی ہے۔اسرائیل میں حالیہ عام انتخابات کے بعد تقریبا دو ماہ تک انتہائی مذہبی رجحان رکھنے اور متانزعہ قیادت کی حامل اتحادی جماعتوں کے ساتھ نتن یاہو نے شراکت اقتدار کے امور طے کرنے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ امور طے ہونے کے بعد یاہو نے 29 دسمبر کو کنیسٹ سے ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پانے اور ہر اتحادی کے مطالبات کومنظور کرنے کے بعد ان کے ساتھ چلنے میں اس کے باوجود بہت مشکلات رہیں کہ الیکشن بھی نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سمیت سب انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں مل کر اور تقریبا ایک ہی ایجنڈے پر لڑا اور جیتا تھا۔پارلیمنٹ سے ووٹ لینے اور حکومتی حلاف برداری سے قبل کنیسٹ کے سامنے اپنی کابینہ کے ارکان کا اعلان کریں گے۔ امکانی طور پر کابینہ میں انتہائی اہم وزارتیں شدت پسند سمجھی جانے والی جماعتوں کے سربراہان کو دیے جارہے ہیں۔

جیوش پاور پارٹی کے بین گویر پولیس کی وزارت کے سربراہ کے طور پر اندرونی سکیورٹی کے امور کے ذمہ دار ہوں گے۔ جبکہ مذہبی صہیونی جماعت کے سربراہ سموتریش کو مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں کے امور کی نگرانی کا اختیار اور قلمدان دیا جائے گا۔نتن یاہو کے یہ دونوں اہم ترین اتحادی اور ان کی جماعتیں مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی بد ترین مخالف ہیں۔ دونوں یہودی جماعتیں اسرائیلی ریاست کو مقبوضہ مغربی کنارے تک باضابطہ طور پر وسعت دینے کی شدید حامی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *