اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی عبوری معاہدے کے لیے مبینہ طور پر مذاکرات کیے جانے کی مخالفت کرتے ہیں۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کے بعد ی کہ امریکہ و ایران کے درمیان مفاہمت ہو رہی ہے ،ہ بات کہی۔خبروں میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان مذاکرات سے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوشش کی جاءگی اور اس ضمن میں کوئی عبوری معاہدہ بھی طے پائے گا۔
معاہدہ میں کچھ پابندیوں میں راحت کے عوض کسی حد تک جوہری پروگرام کو روکنا شامل ہو گا۔تاہم ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور امریکہ نے عوامی سطح پر اس طرح کے کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے۔
عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ سب سے زیادہ محدود سمجھوتہ جسے منی معاہدہ کہا جاتا ہے ہماری نظر میں مقصد کو پورا نہیں کرتا ہے۔اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ افزودگی کو محدود کرنے کے حوالے سے کچھ سمجھوتہ پہلے ہی طے پا چکا ہے اور کچھ فنڈز پہلے ہی غیر منجمد کر دیے گئے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 