لاہور:(اے یو ایس)پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ اپوزیشن رہنما حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کر رہے ہیں تو وہیں حکمران جماعت اپنے اتحادیوں کو متحد رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ایسے میں پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) کے ناراض دھڑے جہانگیر ترین گروپ نے بھی سیاسی میدان میں متحرک کردار ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔بدھ کی شب لاہور میں ترین گروپ کے اہم ر±کن اور ایک وقت میں عمران خان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے عون چوہدری کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا۔مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ترین گروپ نے سیاسی صورتِ حال میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اپوزیشن کی ممکنہ عدمِ اعتماد کی تحریک پر بھی غور کیا گیا۔جہانگیر ترین گروپ میں تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والےقومی اسمبلی کے چھ جب کہ پنجاب اسمبلی کے 20 اراکین شامل ہیں۔ان میں اکثریت ان سیاسی رہنماؤں کی ہے جنہیں جہانگیر ترین اپنی کوشش سے تحریکِ انصاف میں لائے تھے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ اور وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے لہذٰا اب مصالحت کا کوئی راستہ باقی نہیں ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے معاشی حالات اور مہنگائی کی وجہ سے اب ترین گروپ کے اراکین بھی تحریکِ انصاف کے ٹکٹ کے خواہش مند نہیں ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں۔سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی ایسے مبصرین میں شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ تحریکِ انصاف ان ناراض اراکین کو ا?ئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہیں دے گی جب کہ یہ خود بھی پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے خواہش مند نہیں ہیں۔وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ترین گروپ کے پاس اب بہت محدود ا?پشنز ہیں کیوں کہ اب وہ دوبارہ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے۔ا±ن کا کہنا تھا کہ ترین گروپ نے مستقبل میں الیکشن بھی لڑنا ہے اور اپنی سیاست بھی کرنی ہے لہذٰا ان کے لیے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر عدم اعتماد کی طرف جائیں۔سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ترین گروپ کے اراکین کو یہ خوف ہے کہ آئندہ الیکشن میں ا±نہیں تحریکِ انصاف ٹکٹ نہیں دے گی۔ گفتگو کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین گروپ میں شامل اراکین کی اکثریت کو یا تو ترین گروپ نے ٹکٹ لے کر دیا تھا یا یہ وہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔سلمان غنی کہتے ہیں کہ اس وقت جہانگیر ترین کے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے ہیں البتہ وہ کھل کر ان رابطوں کا اعلان نہیں کر رہے۔
ان کے بقول جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کے عمران خان کی حکومت کے ساتھ اختلافات بہت بڑھ چکے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت نے ان کی سیاسی اور کاروباری ساکھ کو نقصان پہنچایا۔سلمان غنی کے مطابق جہانگیر ترین اور ا±ن کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ ا±ن کی سیاسی اور کاروباری ساکھ کو اس حکومت کے دوران جتنا نقصان پہنچا اتنا ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں بھی نہیں پہنچا تھا۔خیال رہے کہ 2020 میں وفاقی انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے شوگر انکوائری رپورٹ پیش کی تھی جس میں جہانگیر ترین کی شوگر مل بھی ا±ن ملز میں شامل تھی جس نے ملک میں چینی بحران سے فائدہ ا±ٹھایا۔جہانگیر ترین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے شوگر انکوائری رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین گروپ کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ جب بھی تحریک عدمِ اعتماد آئے وہ اس کا ساتھ دیں۔ا±ن کے بقول موجودہ صورتِ حال میں اگر دیکھا جائے تو جہانگیر ترین گروپ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو سکتا ہے کیوں کہ گروپ کے زیادہ تر اراکین کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کو بھی ان کی شمولیت سے فائدہ ہو سکتا ہے۔سلمان غنی بھی سہیل وڑائچ سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جہانگیر ترین گروپ عدمِ اعتماد کی تحریک آنے کی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ میں شامل جن اراکین کا تعلق وسطی پنجاب سے ہے وہ ٹکٹوں کے حصول کے لیے مسلم لیگ (ن) کی طرف دیکھ رہے ہیں جب کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ق) سے ٹکٹوں کی ا±میدیں لگا رہے ہیں البتہ اکثریت کی ترجیح مسلم لیگ (ن) ہے کیوں کہ پنجاب میں یہی جماعت زیادہ مقبول ہے۔سلمان غنی کہتے ہیں کہ اگر تحریکِ عدم اعتماد آتی ہے تو وہ ہر صورت کامیاب ہو گی اور گو کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں یقین دلا رہی ہیں کہ وہ حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی ، لیکن جن ‘قوتوں’ کے کہنے پر وہ اس اتحاد میں شامل ہوئی تھیں ان کے کہنے پر وہ الگ بھی ہو سکتی ہیں۔سلمان غنی کہتے ہیں کہ یہ بات اب خارج از امکان ہے کہ جہانگیر ترین گروپ اور عمران خان کی کوئی مصالحت ہو سکے۔ان کے بقول جہانگیر ترین ایک ذہین سیاست دان ہیں اور اب بس بگل بجنے کی دیر ہے۔ ترین گروپ اپوزیشن کا ساتھ دے گا اور اپوزیشن میں اس کی ترجیح مسلم لیگ (ن) ہو گی۔سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اب بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا ہے۔ فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں لہذٰا وہ نہیں سمجھتے کہ مصالحت کا کوئی راستہ بچا ہے یا ترین گروپ دوبارہ حکومت کے ساتھ مل سکتا ہے۔ترین گروپ میں ر±کن قومی اسمبلی راجہ ریاض، سردار ریاض مزاری، خواجہ شیراز، مبین عالم انور، غلام لالی اور سمیع گیلانی شامل ہیں۔
اراکین پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، عبدالحئی دستی، امیر محمد خان، رفاقت گیلانی، فیصل جبوانہ، خرم لغاری، اسلم بھروانہ، آصف مجید، بلال وڑائچ، عمرآفتاب ڈھلوں، طاہر رندھاوا، زوار وڑائچ، نذیر بلوچ، امین چوہدری، چوہدری افتحار گوندل، غلام رسول، سلمان نعیم، قاسم لنگاہ اور سعید اکبر نوانی شامل ہیں۔یہ گروپ مئی 2021 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ راجہ ریاض قومی اسمبلی جب کہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے تھے۔گروپ کی تشکیل کے بعد حکمران جماعت کے کئی رہنماو¿ں نے عمران خان کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کا یہ موقف رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ صرف عمران خان ہیں اور یہ پارٹی ان ہی کی وجہ سے ہےالبتہ انہیں اس گروپ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔وفاقی وزرا اور پارٹی رہنما اپنے بیانات میں یہ کہتے رہے ہیں کہ عمران خان کسی بھی دباو¿ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دسمبر 2017 میں سنائے گئے ایک فیصلے میں جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے انہیں رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ڈی سیٹ کر دیا تھا۔جہانگیر ترین پر الزام تھا کہ ا±نہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی تھی لہذٰا وہ صادق اور امین نہیں رہے۔بعض ماہرین کے مطابق یہی وہ فیصلہ تھا جو جہانگیر ترین اور عمران خان کی د±وریوں کا باعث بنا اور بعدازاں شوگر انکوائری رپورٹ نے دوریاں مزید بڑھا دیں۔
تصویر سوشل میڈیا 