Japan approves major defence overhaul, warning of China threatsتصویر سوشل میڈیا

ٹوکیو:(اے یو ایس ) جاپان نے خطے میں ممکنہ خدشات اور یوکرین پر روسی حملے کے انداز میں تائیوان پر چین کے ممکنہ حملے کے پیش نظر مکمل جنگی استعداد کی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جاپان 320 ارب ڈالر کی مالیت کے میزائل خریدے گا۔میزائل خریداری کا مقصد چین کو ہٹ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور کسی بھی ایسے خطرے کو روکنا ہے جیسا کہ یوکرین پر روسی حملے کی وجہ ہو گیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ جاپان کا ایک غیر معمولی جنگی بلڈ اپ ہو گا۔جاپان کے اس بڑے فیصلے کے بعد یورپی دنیا کی طرف جنگ پھیلنے کا خدشہ بھی کم ہو جائے گا اور جنگ کے مشرق کی طرف موڑنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں جاپان ایک برے پہلوان کے طور پر میدان میں اتر گیا ہے۔جاپان نے اس سلسلے میں اپنے اس منصوبے کے تحت اگلے پانچ برسوں برسوں میں امریکہ اور چین کے بعد تیسری بڑی فوجی قوت بننے کی طرف بڑھنے پر کا عندیہ دیا ہے۔ جو چین کے علاقائی عزائم کو روکنے میں کارگر ہوگا۔

جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے اس جاپانی حکمت عملی کو جاپان اور اس کے عوام کی طرف سے تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ‘یہ ریمپ اپ میری طرف سے سامنے آنے والے بہت سے سیکیورٹی چیلنجز کے لیے جواب ہے۔’وزیر اعظم فومیو کیشیدا کی حکومت روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کی قائم کردہ مثال کے بعد اس تشویش میں مبتلا ہے کہ اس شہ پا کر چین بھی تائیوان پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ جس سے جاپان کے قریبی جزائر کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جاپان کے جدید ترین سیمی کنڈکٹرز کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ سمندری راستہ مشرق وسطیٰ سے آنے والے تیل کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے۔جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس کے سابق سربراہ یوجی کوڈا نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیاری جاپان کے لیے ایک نیا راستہ ہے، اگر اسے اچھے انداز سے نافذ کیا گیا تو جاپان کی فوج بہترین سیلف ڈیفنس فورس بن جائے گی۔خیال رہے یوجی کوڈا نے جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس کو 2008 میں کمان کیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ فاضل پرزہ جات کا بھی ذخیرہ جمع رکھے گی۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے شعبے اور سائبر وار فئیر کے حوالے سے بھی ضروری لوازمات کا اہتمام کیا جائے گا۔جاپان نے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی طرف سے اس کے لیے بنائے دستور کے تحت جاپان کو جنگ کرنے اور جنگی تیاری کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ تذویراتی حکمت عملی سے متعلق ایک دستاویز میں کہا گیا ہے ‘ اب روس کے یوکرین پر حملے نے امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے دنیا کو دیے گئے عالمی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چین کی طرف سے جاپان کو آج جس قدر خطرات کا سامنا ہو گیا ہے ماضی میں کبھی نہیں تھے۔’دستاویز میں مزید کہا گیا ہے ‘یہ خطرہ اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کہ چین نے کبھی بھی تائیوان کے خلاف طاقت کے ممکنہ استعمال کی تردید نہیں کی ہے۔ جبکہ چین، روس اور شمالی کوریا باہمی قریبی تعاون کا ایک دوسرے وعدہ کر چکے ہیں۔ اس لیے امریکہ اور دوسرے ہم خیال ملکوںکے ساتھ مل کر ضروری ہے کہ جاپان بھی عالمی نظام کو درپیش خطرات کے بارے میں حکمت عملی بنائے ۔

جاپان کی سیلف ڈیفینس ائیر فورس کے سابق سربراہ توشی میچی ناگائیوا نے کہا کہ یوکرین کی جنگ نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ ہمیں بھی جنگ لڑنے کے قابل ہونا چاہیے۔ جاپان کا اس شعبے میں دیر سے آغاز کر رہا ہے۔ ایساا لگتا ہے چار سو میٹر کی میراتھن میں ہم دو سو میٹر پیچھے ہیں۔جاپانی وزیر اعظم نے اس پس منظر میں جاپان کے دفاعی بجٹ کو دوگنا کرتے ہوئے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے مطابق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی ضروریات پر جی ڈی پی کا ایک فیصد حصہ خرچ کرنے کا فیصلہ 1976 سے چلا آرہا تھا۔اب نئی صورت حال میں دفاعی وزارت کا بجٹ دیگر تمام سرکاری اخراجات کا دسواں حصہ ہو گا۔ اس طرح جاپان دنیا کا تیسر بڑا ملک کہلائے گا جو دفاع پر سب سے زیادہ اخراجات کرنے والا ملک بن جائے گا۔ امریکہ اور چین اس سے بھی زیادہ فوجی اخراجات والے ملک ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *