نئی دہلی :جلد ہی فلم ’ پتی پتنی اور وہ‘ میں نظر آنے والے اداکار کارتک آرین نے اپنے کیرئر کے جد وجہد کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ ان کی جدوجہد کے ابتدائی دور میں تو انہیں اسٹوڈیوکے باہر سے ہی بنا آڈیشن دیئے واپس بھیج دیا جاتا تھا۔

آرین نے سوشل میڈیا بلاگ ’ ہیومنز آف بامبے ‘میں اپنے جدوجہد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ’ میری پیدائش ریاست مدھیہ پردیش کے گوالیار کے چھوٹے سے شہر میں ہوئی، والدین میڈیکل فیلڈ میں تھے اور میرا انجینئرنگ کرنے کا ارادہ تھا۔لیکن 9ویں جماعت میں میں نے فلم ’ بازی گر‘ دیکھی اور میں جانتا تھا کہ میں اسکرین کے دوسری طرف رہنا چاہتا ہوں ۔ اسلئے میں نے طے کیا کہ میں 12ویں جماعت تک گوالیار میں ہی پڑھوں گا لیکن گریجویشن اور مزید تعلیم کے لیے ممبئی جاؤں گا ، قسمت سے مجھے نوی ممبئی میں کالج مل گیا اور میں نے وہاں ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیا ، میرے پاس ایکٹنگ لائن سے وابستہ کوئی رابطہ نہیں تھا، اس لئے میں فیس بک پر ’ ایکٹر نیڈیڈ‘ کے الفاظ ٹائپ کرتا تھا۔

کارتک آرین نے اپنے سفر کے بارے میں مزید بتایا کہ ’ میں آڈیشن کے لئے ہفتے میں تین سے چار دن تقریبا 6گھنٹے کے لئے سفر کرتا تھا ، اس وقت میں اسٹوڈیو کے باہر سے ہی ریجیکٹ ہو جاتا تھا ، کیونکہ میں اس حصے کا نہیں دکھتا تھا ، اس کے بعد بھی مجھے امید تھی۔جلد ہی مجھے کچھ سیکنڈس کے اشتہارات ملنے لگے ، اس موقع پر میں نے 12لوگوں کے ساتھ اندھیری میں فلیٹ لیا، میرے پاس محدود پیسے ہوتے تھے ،ان سے میں اپنا فوٹو شوٹ بھی نہیں کروا سکتا تھا ،اسلئے میں ایجنٹ کو گروپ فوٹو میں سے اپنی تصویر کوراپ کر کے بھیجتا تھا ، کئی بار میں نے ان آڈیشن کے لئے اپنی کلاسیں بھی چھوڑیں۔میرے ماں باپ کو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا ، ایک بار میں نے فلم آڈیشن کا اشتہار دیکھا اور وہاں جانے کے بارے میں سوچا’۔

کارتک نے فلمی کیرئر کے بارے میں آگے لکھا’ آڈیشن میں میں انہیں پسند آیا اور انہوں نے کئی بار میرا آڈیشن لیا، جب مجھے رول ملا تو میں نے اپنی ماں کے پاس کال کی۔انہیں ان سب پر بالکل بھی یقین نہیں ہوا، تقریبا ڈھائی سال کیجدوجہد کے بعد مجھے اپنا خواب سچ ہوتا دکھا، ’ پیار کا پنچنامہ‘ کے بعد میرے پاس زیادہ کامیابیاں نہیں تھیں، میری ممی اڑی تھیں کہ میں اپنی ڈگری پوری کر لوں، میں نے امتحان دیئے اور ہال میں بیٹھے لوگ میری فوٹو کھینچے لگے، ’ سونو کے ٹیٹو کی سوئٹی‘ کے بعد یہ سب بدل گیا ’جب میں گوالیار گیا تو مجھے میرے اسکول میں چیف گیسٹ کے طورپر بلایا گیا اور بچے میرا نام لے رہے تھے ،لیکن آ ج جو میرے پاس ہے وہ کبھی نہیں ہوتا اگر میں یقین نہ کیا ہوتا، مجھے فخر ہے کہ میں اس وقت کہاں ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *