پشاور،(اے یو ایس)صوبہ پختونخوا دہشت گردسرگرمیوں کا مرکز بن رہاہے پولیس اور دوسرے سیکورٹی اہلکار کے پاس جدید ہتھیار اور ساز وسامان نہیں ہے کہ ان کے ساتھ موثر طریقے سے نمٹے۔ حال ہی میں ایک دلکش حملے میں دہشت گردوں نے پولیس لائنز کی مسجد کو نشانہ بنایا اور اس میں 100سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود وہاں کی پولیس کے پاس جدید ساز وسامان کی کمی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت جو وہاں پر برسر اقتدار تھی اس نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے 10برسوں کے دوران خیبر پختونخوا صوبے کو دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے 417ارب روپے دیئے گئے لیکن پھر بھی وہاں کاسیکورٹی ڈھانچہ کمزور ہے۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے یہاں پھر سے سراٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکی اور جو فنڈز دیئے گئے تھے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا۔ اس صوبے میں پولیس عملے پر پے درپے حملے کئے جارہے ہیں جس سے حالات کشیدہ ہوئے۔
سیکورٹی صورتحال سنگین بن گئی ہے اور پولیس کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہورہی ہے۔حال ہی میں یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان کے سیکڑوں جنگجو اس صوبے میںبس گئے ہیں۔ لیکن وہ اپنے ساتھ ہتھیار بھی لائے ہیں۔ جنگجوو¿ں کو یہاں پر بسانے کی کیا ضرورت تھی انہوںنے عمران خان کی حکومت کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ۔کچھ دن پہلے خیبر پختونخوا کی پولیس نے بھی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف مظاہرے کئے یہ پہلا موقع ہے کہ جب پولیس نے دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کئے۔
تصویر سوشل میڈیا 