Maan Ki Baat: From Collarwali tigress to receiving postcards from Croatiaتصویر سوشل میڈیا

نئی دہلی: (اے یوایس) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آزادی کے امرت مہوتسو کا جوش وجذبہ ملک میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی دیکھا جا رہا ہے اور انہیں اس سلسلے میں اب تک ایک کروڑ سے بھی زیادہ پوسٹ کارڈ پیغامات موصول ہو چکے ہیں اتوار کو یہاں من کی بات پروگرام میں ہم وطنوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا،“ہندوستان کی آزادی کے امرت مہوتسو کا جوش صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں ہے۔ مجھے ہندوستان کے دوست ملک کروشیا سے بھی 75 پوسٹ کارڈ ملے ہیں۔

کروشیا کے زاگریب میں طلباءنے یہ 75 کارڈ ہندوستان کے لوگوں کے لئے بھیجے ہیں اور امرت مہوتسوکی مبارکباد دی ہے۔ آپ تمام ہم وطنوں کی طرف سے، میں کروشیا اور وہاں کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں، بچوں، طلباءاور دیگر لوگوں نے آزادی کے امرت مہوتسو کے سال میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ پوسٹ کارڈ پر اپنی تجاویز اور جذبات لکھ کربھیجے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک کروڑ پوسٹ کارڈ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہیں، بیرون ملک سے بھی آئے ہیں۔ میں نے ان میں سے بہت سے پوسٹ کارڈز کو پڑھنے کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پوسٹ کارڈ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کے مستقبل کے لیے ہماری نئی نسل کا وژن کتنا وسیع اورکتنا بڑاہے۔

انہوں نے گوہاٹی سے ساتویں جماعت کی طالبہ ردھیما سورگیاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی کے 100ویں سال میں ایک ایسا ہندوستان دیکھنا چاہتی ہیں جو دنیا کا سب سے صاف ستھرا ملک ہو، دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک ہو، صد فیصد خواندہ ممالک میں شامل ہو۔ حادثے سے پاک ہو، اور پائیدار ٹیکنالوجی کے ساتھ فوڈ سیفٹی کے قابل ہو۔مسٹرمودی نے کہا کہ پریاگ راج کی نویا ورما کاخواب 2047 میں ایک ایسے ہندوستان کا جہاں ہر ایک کو باوقار زندگی ملے، جہاں کسان خوشحال ہوں اور کوئی بدعنوانی نہ ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں اس سمت میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”یہ کام ہم تمام اہل وطن کو، آج کے نوجوانوں کومل کرکرنا ہے، جلد از جلد کرناہے، اوراس کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے فرائض کو ترجیح دیں۔ جہاں فرض نبھانے کا احساس ہوتاہے، فرض سب سے اہم ہوتا ہے، وہاں بدعنوانی داخل نہیں ہوسکتی۔”انہوں نے اسی طرح کے کچھ اور پیغامات بھی باشندگان وطن کے ساتھ شیئر کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *