کابل:کچھ میک اپ آرٹسٹوں نے افغانستان بھر میں خواتین کے بیوٹی سیلون پر پابندی اور انہیں بند کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے اور مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت اپنا حکم واپس لے۔ انہوں نے ایک بند علاقے میں ایک اجتماع کا انعقاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے یہ ذریعہ معاش اختیار کیے ہوئے ہیں اور خواتین کے بیوٹی سیلون بند کرنے سے ان کے لیے زبردست معاشی دشواریاں پیدا ہوجائیں گی۔
بیوٹیشن نادیہ سلطانی نے کہا کہ پورے افغانستان میں 12,000 سے زیادہ خواتین کے بیوٹی سیلون چل رہے ہیں اور ان میں سب خواتین ہیں۔ خواتین کے بیوٹی سیلون خواتین کے لیے مخصوص علاقوں میں ہیں۔ ہر بیوٹی سیلون کی سربراہ ایک عورت ہوتی ہے۔ ایک بیوٹیشن راہا حسنی نے کہا کہ جب کوئی عورت خواتین کے بیوٹی سیلون میں کام کرتی ہے تو اس کی وجہ تنگی اور غربت ہوتی ہے۔
قبل ازیں وزارت نیکی و پاکبازی کے ترجمان محمد عاکف مہاجر نے کہا تھا کہ امارت اسلامیہ کے سربراہ نے ایک نیا زبانی فرمان جاری کر کے کابل اور ملک بھر کے دیگر صوبوں میں خواتین کے بیوٹی سیلون پر پابندی عائد کردی ہے۔ایک میک اپ آرٹسٹ زیوار نے کہا کہ مجھے اپنے بچوں کے لیے کھا نے کا بندوبست کرنے اس کا م پرمجبور ہونا پڑا ۔لیکن اب وہ اسے بند کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے واقعی مشکل ہو رہا ہے۔ ہم ملک چھوڑ دیں یا پھر سڑکوں پر نکل آئیں اور خودکشی کر لیں۔ یا ہمیں ایٹم بم کے نیچے لٹادیں یا ہمیں پھانسی دے دیں کہ ہم خواتین ہیں۔خواتین کے حقوق کی کارکن مریم شورش نے امارت اسلامیہ کی جانب سے خواتین پر پابندی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
تصویر سوشل میڈیا 