Masarat Kar: The woman mayor making difference in once militancy hotbed Soporeتصویر سوشل میڈیا

سری نگر: پوری دنیا کی طرح کشمیر بھی خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب قدم اٹھا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی اگرچہ جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں لیکن اب ایک اور ریکارڈ بن گیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے سوپور میں پہلی خاتون میئر منتخب ہوئی ہے۔ مرحوم غلام رسول کار کی بیٹی مسرت کار کو 21 وارڈ سوپور میونسپل کونسل کی میئر منتخب کیا گیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ پوری دنیا کے تمام میئرز میں سے صرف 20 فیصد خواتین ہیں۔پچاس سالہ مسرت ممتاز سیاستدان مرحوم غلام رسول کار کی بیٹی ہیں۔سوپور جو پہلے دہشت گردی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اب ترقی کی نئی داستان لکھ رہا ہے۔

جب مسرت کارنے جولائی 2021 میں سوپور کی ترقی کی ذمہ داری سنبھالی تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔مسرت کہتی ہیں کہ سیاست میں وہ اپنے لوگوں کے لیے آئی ہیں تاکہ دیہی لوگ ترقی کر سکیں اور سوپور کو اپنی کھوئی ہوئی تصویر واپس مل سکے۔ وہ اپنے قصبے کی خوشحالی کے لیے انتھک محنت کرتی رہنا چاہتی ہے تاکہ سوپور کے دہشت گرد کالا پنہ لوگوں کے ذہنوں سے مٹ سکے۔کشمیر کا قندھارسوپور کو کشمیر کا قندھار بھی کہا جاتا ہے۔ مسرت کہتی ہیں، کچھ لوگوں نے اپنے مفاد اور سیاسی فائدے کے لیے سوپور کو دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔ اب حالات بدل رہے ہیں اور لوگوں کو یقین ہے کہ ان کی ترقی ہوگی اور ہو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوپور کے لیے 47 لاکھ کی گرانٹ جاری کی گئی ہے لیکن مسرت کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے تحت سوپور میں تین نئے گھاٹ بنائے جائیں گے اور کام مکمل ہونے کے بعد یہ گھاٹ سوپور کو ایک نئی شکل دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *