اقوام متحدہ: (اے یو ایس ) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خاتون ایلچی ڈیبورا لیونز نے کابل کے اقتدار پرطالبان کے قبضے کے بعد سے لڑکیوں اور خواتین کے خلاف طالبان تحریک کی طرف سے نافذ کیے گئے سخت احکامات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کوتعلیم اور کام کے حق سے محروم کیا جا رہا اور لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ڈیبورا لیونز نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ کے طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔ انہوں اس بات پر زور دیا کہ آج کا افغانستان اس سے بہت مختلف ملک ہے جس کامیں نے دو سال پہلے مشاہدہ کیا تھا۔ سبکدوش ہونے وا لییو این ایلچی کی جگہ ابھی تک کسی کو تعینات نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ”جب میں نے یہ ملازمت قبول کی تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ افغانستان وہیں آئے گا جہاں میں اب جا رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا دل ان لاکھوں افغان لڑکیوں کے لیے رو رہا ہے جنہیں تعلیم کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اور اور باصلاحیت خواتین کو گھروں میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ افغانستان سے امریکی اور ناٹو فوج کی واپسی کے آخری مہینوں میں افغانستان میں طالبان کی تیزی کے ساتھ پیش قدمی دیکھی گئی اور 2001 کے بعد طالبان ایک بار پھر افغانستان کے اقتدار پر فائز ہو گئے ۔طالبان نے فتویٰ جاری کیا کہ خواتین چہرے کا پردہ کریں گی۔ انہیں پبلک میں آنکھوں کے سوا پورے چہرے کا نقاب کرنا ہوگا۔ یہ پابندی ٹی وی چینلز پرپروگرام پیش کرنے والی میزبانوں اور اسکولوں کی طالبات اور اساتذہ سب کے لیے عام ہے۔مارچ 2020 میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیونز نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ اب ہر ایک کے لیے ملک کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے جگہ موجود ہے، لیکن آدھی آبادی پھنس گئی ہے اور انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک عورت کے طور پر میری افغان بہنوں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خواتین، اقلیتوں اور دیگر ستم رسیدہ طبقات کے خلاف یہ نظام زیادہ عرصہ نہیں چلے گا ۔
تصویر سوشل میڈیا 