Netanyahu warns Saudi Arabia over diplomatic ties with Iranتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب(اے یو ایس ) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہےکہ سعودی عرب کے ساتھ امن کئی طریقوں سے عرب اسرائیل تنازع کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدہ کیا ہے۔نیتن یاہونے بدھ کے روز سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا ہے کہ”میرے خیال میں اس معاہدے کا تعلق یمن میں دیرینہ تنازع کو کم کرنے یا ختم کرنے کی خواہش سے ہے۔میرے خیال میں ”سعودی عرب اور اس کی قیادت کواس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ ان کے مخالف کون ہیں اورمشرق اوسط میں ان کے دوست کون ہیں“۔تاہم انھوں نے ایران کے ساتھ شراکت داری پر خبردارکیا اور کہا کہ ”جولوگ ایران کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں،وہ بدحالی کے ساتھ شراکت دار ہیں۔لبنان کو دیکھو، یمن کو دیکھو، شام کو دیکھو، عراق کو دیکھو“۔

نیتن یاہونے کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جو قریباً ناکام ریاست کے درجے پرہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق اوسط میں 95 فی صد مسائل ایران کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔نیتن یاہو سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی بحالی کے لیے چین کی حمایت یافتہ حالیہ معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔انھوں نے الریاض اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پرلانے کی امید کا اعادہ کیا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ”میرے خیال میں یہ امن کے لیے ایک اور بڑی چھلانگ ہوگی“ اوراس یقین کا اظہارکیا کہ اس سے عرب اسرائیل تنازع ختم ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”میں یہ نہیں کَہ رہا کہ اس سے فلسطین اسرائیل تنازع ختم ہو جائے گا۔ فلسطینی عرب دنیا کاقریباً 2 فی صد ہیں، لیکن اس سے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان تنازع کئی طریقوں سے ختم ہوجائے گا۔دریں اثنائ اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے کہا ہے کہ کہ ”ان کا سعودی عرب کے دورے کا آپشن زیرغور ہے اور اس سال ایک اور عرب ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا۔جہاں تک فلسطینی اسرائیل تنازع کاتعلق ہے، نیتن یاہو نے بیجنگ کی حالیہ رپورٹس کو مسترد کردیا کہ اس کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا منصوبہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم چین کا احترام کرتے ہیں اور چین کے ساتھ بہت ڈیل کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارا اپنے عظیم دوست امریکا کے ساتھ ناگزیر اتحاد ہے۔چینی وزیرخارجہ نے اسی ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے فلسطینی اوراسرائیلی ہم منصبوں کو امن مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے بیجنگ کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *