نئی دہلی: (اے یوایس) نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو سیٹ لائیٹ کی نئی تصاویر تک رسائی حاصل ہوئی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈوکلم سطح مرتفع کے 9 کلو میٹر مشرق میں ایک چینی گاؤ کی تعمیر ہوئی ہے۔ ڈوکلم وہی مقام ہے جہاں 2017 میں ہندوستانی اور چینی فوجی
دستوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آیا تھا۔ نئی تعمیر پوری طرح آباد بستی معلوم ہوتی ہے جہاں لگ بھگ ہر گھر کے سامنے کاریں کھڑیں ہیں۔ نمایاں بات یہ ہے کہ نیا گاؤں جسے بیجنگ حکومت پنگڈا کہتی ہے، بھوٹانی علاقے کے ٹھیک اندرون واقع ہے۔
اس ضمن میں تفصیلات سب سے پہلے 2021 میں این ڈی ٹی وی نے ہی پیش کئے تھے۔ پنگڈا کے ساتھ ساتھ راہداری ہے جو بھوٹان میں چین کی دراندازی کا کھلا ثبوت ہے۔ چین بھوٹانی علاقہ میں 10 کلو میٹر اندرون گھس چکا ہے اور دریا اموچو کے کناروں سے آگے بڑھتا جارہا ہے۔ اس دریا کے کنارے چین کی پیشقدمی ہندوستان کیلئے اس طرح تشویشناک ہوسکتی ہے کہ یہ آگے چل کر ڈوکلم سے متصل ہوجائے گی۔ اس سے چین کو دفاعی اعتبار سے ہندوستانی سیلی گوڑی کاریڈور کے پاس واضح برتری حاصل ہوجائے گی۔ یہ کاریڈور تنگ راہداری ہے جو شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے جوڑتی ہے۔ 2017 میں ہندوستانی فوجیوں نے جی جان لگاکر چینی ورکرس کو ڈوکلم میں پیشقدمی سے روکا تھا۔
اب دوبارہ تشویش پیدا ہورہی ہے کہ چین گھوم پھر کر ہندوستانی دفاع کو توڑنے کے جتن کررہا ہے۔ وہ مغربی سمت سے ہندوستانی خطہ کو گھیر رہا ہے۔ پنگڈا گا¶ں شمالی اور جنوبی سمت میں چینی دراندازی کا ثبوت ہے جس پر ہندوستانی افواج کو فکر مند ہونا ضروری ہے۔ لیفٹننٹ جنرل پراوین بخشی (ریٹائرڈ) جو 2017 میں ایسٹرن آرمی کمانڈر تھے، انہوں نے کہا کہ ڈوکلم خطہ کے پاس چینی سرگرمیوں کو روکنا ضروری ہے ورنہ ہندوستان میں چینی دراندازی اُسی طرح بڑھ جائے گی جیسے بھوٹان کے خطہ میں بڑھ چکی ہے۔ آرمی کا کہنا ہے کہ تمام سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 