No economic benefits for locals from Pakistan's Gwadar portتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان اتحاد سے پاکستانی عوام اور معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ نے چائنا پروجیکٹ کے نام سے گوادر پورٹ کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس بندرگاہ سے وہاں کے مقامی لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے یہ منصوبہ پاکستان کے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور اس خطے کی ترقی کے نام پر اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ لیکن اس کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں یہاں پر ہونے والے احتجاج میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

گوادر میں مقامی ماہی گیروں کو ماہی گیری سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں ماہی گیروں اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ 7 سال سے زائد عرصے سے گوادر پورٹ کو چین سے ملنے والی رقم سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے رہنے والوں کو آج تک اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ نہ ہی اس منصوبے سے ان کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔

گوادر کے سماجی کارکن ناصر رحیم سہرابی کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریبا 20 برسوں سے گوادر کی نوجوان نسل ایک ہی خواب کی تعبیر کرتے ہوئے پروان چڑھی ہے کہ چین کی مدد سے یہاں لاشیں الٹ جائیں گی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ چین کی مدد سے یہ پورا خطہ مستقبل میں سنگاپور اور دوبئی کے برابر ہو جائے گا لیکن اب یہ امیدیں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔سہرابی نے بتایا کہ یہ پورا علاقہ سیکورٹی زون میں آتا ہے۔ مقامی لوگوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ بندرگاہ کے پورے علاقے میں زبردست سیکورٹی ہے۔ یہاں آنے والوں کو کئی حفاظتی چکروں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں ایک منی فش پورٹ بھی گوادر پورٹ کا حصہ ہے۔ لیکن مقامی ماہی گیر اب یہاں مچھلیاں نہیں پکڑ سکتے۔ انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت ہے انہیں بھی مختلف حفاظتی پروٹوکول سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں حالیہ دنوں میں احتجاج میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *