OIC delegation visits Kabul to share members concernsتصویر سوشل میڈیا

کابل:اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے دانشوروں اور مفکرین کا ایک وفد کابل آیا ہے جس کا مقصد اسلامی امارات کے عہدیداروں اور علمائے دین کو او آئی سی کے ممبر ممالک کے خدشات سے واقف کرانا ہے۔ او آئی سی نے ایکس سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ اسکالرز موجودہ افغان حکومت کے عہدیداروں اور کابل میں مذہبی اسکالرز سے ملاقات کریں گے اوران کے ساتھ شرعی اعتبار سے مختلف امور بشمول خواتین کی تعلیم اور ان کے کام کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وفد کا دورہ او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی اور وزرائے خارجہ کی کونسل کی قراردادوں پر جنرل سکریٹریٹ کی قرار داد کے بعد کیا جارہا جس میں او آئی سی کے سکریٹری جنرل سے کہا گیا تھاکہ وہ بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی اور عالم اسلام موجودہ مذہبی اداروں کی سربراہی میں علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز کا وفد افغانستان بھیجے جہا ں وہ افغان حکمرانوں کے ساتھ انتہائی اہمیت کے حامل معاملات مثلاً اسلام میں رواداری اور اعتدال ، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر امارت اسلامیہ کے رہنماؤں سے بات کرے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار ضیا الحق مدنی نے کہا کہ عالم اسلام کو لڑکیوں کی تعلیم اور کچھ دیگر امور جیسے افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے پڑوسی ممالک کے خدشات پر تشویش ہے اور ان خدشات کو اسلامی امارات کے اعلیٰ عہدے داروں کے گوش گذار کرنا چاہئے۔ دریں ا ثنا ان اسکا لروں نے سیاسی نائب وزیر اعظم مولوی عبد الکبیر سے ملاقات میں افغانستان میں استحکام پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران سیاسی نائب وزیر اعظم نے ایک بار پھر دنیا کے ساتھ اسلامی امارات کے مثبت باہمی روابط پر زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *