Over 75000 Russian troops killed or injured since start of invasion of Ukraineتصویر سوشل میڈیا

قیف: (اے یو ایس ) امریکی اخبار نیوز ویک کے مطابق ایسا اندازہ لگایا جا تا ہے کہ یوکرین پر چڑھائی کے لیے بھیجی گئی فوج میں سے تقریباً نصف ہلاک یا زخمی ہو گئی ہے۔یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاری جنگ روس کو بہت زیادہ نقصان کا باعث بن رہی ہے۔اس تناظر میں امریکی کانگریس کی خاتون رکن ایلیسا سلوٹکن نے بدھ کو ’سی این این‘ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کی جانب سے یوکرین پرحملے کے بعد سے اب تک 75 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔سلوٹکن نے یہ بیانات امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ یوکرین میں جنگ کے بارے میں ایک خفیہ بریفنگ میں شرکت کے بعد دیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ روسی فوج تھک ہار چکی ہے۔

یوکرین میں جنگ کے دوران یہ اطلاعات تھیں کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ 150,000 فوجیوں کو جمع کیا ہے۔اس کے بعد سے روسی ہلاکتوں کے اعداد و شمار غیر واضح رہے ہیں۔ لیکن نئے نمبروں کی اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب روس کے لیے یہ آپریشن بھاری اور نقصان ثابت ہوا ہے۔سلوٹکن نے اعداد و شمار کو غیرمعمولی قرار دیا اور کہا کہ 80 فیصد سے زیادہ روسی فوج مجبور اور تھکی ہوئی ہے۔

سلوٹکن جو حال ہی میں یوکرین کے دورے سے واپس آئی ہیں نے کہا کہ اگلے تین سے چھ ہفتے روس اور یوکرین کے تنازع کے حوالے سے اہم ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جو ہم نے (یوکرین کے) صدر (ولاوی میر) زیلنسکی سے بہت مضبوطی سے سنا اور آج تقویت ملی وہ یہ ہے کہ یوکرین کے لوگ واقعی موسم سرما کے آنے سے پہلے چند بار روس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور انہیں ہر ممکن حد تک بالخصوص جنوب میں روس کو روکنا چاہتے ہیں۔

روس کے زیر کنٹرول یوکرین کے جنوبی حصے میں جوابی حملہ جاری ہے،کیونکہ یوکرین کی افواج کھیرسن کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ شہر پر دوبارہ قبضے سے یوکرینی افواج کو بحیرہ اسود کے ساحل کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔اس تناظر میں برطانیہ کی جاسوسی ایجنسی ’MI6‘ کے سربراہ رچرڈ مور نے گذشتہ ہفتے اسپین سیکیورٹی فورم کے دوران کہا تھا کہ روس طاقت ختم ہونے کے دہانے پر ہے جب کہ یوکرین مغربی اتحادیوں سے طاقتور ہتھیار حاصل کرنے کے بعد بھی حوصلہ مند ہے۔ایجنسی نے کہا کہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ روسیوں کو اگلے چند ہفتوں میں افرادی قوت اور مواد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہیں کسی نہ کسی طرح روکنا پڑے گا اور اس سے یوکرینیوں کو جواب دینے کے مواقع ملیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *