Pak PM Imran Khan expresses support to China on Xinjiangتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: دنیا بھر میں مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کرتے رہنے والے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا دوہرا کردار ایک بار پھر منظر عام پر آگیا ہے۔وزیر اعظم عمران نے چین سے بھیک لینے کے لیے وہاں کے سنکیانگ صوبے میں رہنے والے ایغوروں کے ساتھ ہو رہے استحصال پر نہ صرف دیکھی ان دیکھی کی بلکہ سینکیانگ کے معاملہ پرچین کی حمایت بھی کی ۔

انہوں نے اویغوروں پر مظالم کے بارے میں چین کے خلاف ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا جو انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں اور مغرب کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔واضح ہو کہ عمران خان حال ہی میں چین کے سرکاری دورے پر بیجنگ گئے تھے۔ وہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے مختلف امور پر بات کی۔ اس دوران مذاکرات میں کاروباری معاملات بھی شامل تھے اور چین کے قرضوں کی واپسی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اس دوران پاکستان نے چین کی کھل کر حمایت کی اور ایغوروں پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ ایک بار پھر چین کی حمایت کے لیے جنوبی بحیرہ چین اور ون چائنا پالیسی سے متعلق معاملات پر چین کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے۔

شی جن پنگ اور عمران خان کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بحیرہ جنوبی چین، ہانگ کانگ اور سنکیانگ صوبے بشمول تائیوان کے معاملے و تبت پر شی جن پنگ کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کی وجہ سے چین کا مغربی ممالک سے تنازعہ ہے۔ مغربی دنیا بیجنگ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتی رہی ہے۔ چین کو پاکستان کی حمایت کے جواب میں، شی نے بھی پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی پر حمایت کی اور سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون پر زور دیا۔پاکستان نے صوبہ سنکیانگ میں رہنے والے اویغوروں پر مظالم کے حوالے سے دنیا کی تقریبا 243 تنظیموں کے الزامات کو واضح طور پر مسترد کر دیا جو چین کے خلاف تھیں۔ ان تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ دنیا مل کر چین کے خلاف کارروائی کرے۔ ان تنظیموں نے جنوری کے اوائل میں یہ اپیل بھی کی تھی کہ بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپک گیمز کا بائیکاٹ کیا جائے۔ واضح ہو کہ صدر شی جن پنگ کے دور میں سنکیانگ سمیت پورے تبت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ آزادی کے متلاشی تبتیوں کو جیلوں میں ڈالا اور اذیتیں دی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *