Pakistan put army on high alert in fear of another surgical strike fromتصویر سوشل میڈیا

نئی دہلی : ہندوستان میں نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں چل رہے کسان آندولن پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ کینیڈا کے بعد برطانیہ اور امریکہ میں بھی اس آندولن کو لیکر آواز بلند ہو رہی ہے۔ بیرون ملک بسے ہندوستانی جہاں اس معاملے کے حوالے سے تشویش میں ہیں وہیں پاکستان کی ٹینشن بھی بڑھ گئی ہے۔پاکستان ایک بار پھر ہندوستان کی جانب سے ممکنہ سرجیکل اسٹرائیک سے خوفزدہ ہے۔

پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹربیون نے لکھا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اشارے ملے ہیں کہ ہندوستان ایک بار پھر دہلی میں جاری کسان مظاہروں سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی جرات کرسکتا ہے۔ اخبار نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے امکان کے پیش نظر پاکستان نے ہندوستان کی سرحد پر موجود فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

ایکسپریس ٹربیون نے لکھا کہ ہندوستان کی نریندر مودی حکومت ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کو کمزور کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ہندوستان یہ بھی نہیں چاہتا ہے کہ سکھ کسانوں کی قیادت میں جاری احتجاج سے خالصتانی تحریک کو ہوا ملے ۔اخبار نے لکھا ہے کہ متعدد قابل اعتماد ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ ایل او سی(لائن آف کنٹرول)اور ہندوستان۔ پاکستان ورکنگ باو¿نڈری پر پاکستانی فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ وہ ہندوستان کی کسی بھی حرکت کا جواب دے سکے۔

پاکستان کے اخبار جیو نیوز نے بھی یہ خبر شائع کی ہے۔پاکستان کے اخبار جیو نیوز نے لکھا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کے کسی فلیگ آپریشن یا سرجیکل اسٹرائیک کے امکان سے فوج کو الرٹ پر رکھا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ہندوستان اپنے داخلی اور بیرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کرسکتا ہے واضح ہو کہ فروری 2019 میں ، پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردوں کے حملے کے جواب میں ، ہندوستانی نے پاکستان کے بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کیا تھا۔ حالانکہ ایک طرف پاکستان سرجیکل اسٹرائک کی تردید کرتا رہا ہے ، لیکن دوسری طرف اسے سرجیکل اسٹرائیک کا پھر سے ڈر بھی ستارہا ہے۔

پاکستان ہندوستان میں جاری کسانوں کی تحریک کے بارے میں بیان بازی میں لگا ہے۔ مودی سرکار کے نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے کم سے کم سہارا قیمتیں (ایم ایس پی) اور سرکاری منڈیاں ختم ہوجائیں گی اور انہیں نجی خریداروں کو اونے پونے داموں پر اپنی فصلوں کو بیچنے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔ حکومت کسانوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لئے کوشش کر رہی ہے ، لیکن پاکستان کے وزرا کسانوں کو اکسانے میں مصروف ہیں۔

پاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چودھری نے کسانوں کی تحریک کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا،بے رحم مودی حکومت کو پنجاب کے کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں نہ صرف ہندوستان کے داخلی مسئلے پر تبصرہ کیا بلکہ ہندوستانی کسانوں میں پھوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔انہوں نے گجراتی ہندوتو کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے پنجابی کسانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *