کوئٹہ :(اے یو ایس)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا صوبہ کے 6اضلاع میں پانچ سال کی مدت کے بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر کے ان دونوں صوبوں کے موبائل فون آپریٹروں کو بالآخر انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی نے متلعقہ انتظامیہ کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر اور بلوچستان کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان اضلاع میں قلات، کیچ تربت، آواران پنجگور اور واشک شامل ہیں۔حکام نے اس کے علاوہ بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر بھی انٹرنیٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔پی ٹی اے حکام نے کالر موبائل آپریٹرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ان اضلاع میں انٹرنٹ کی بحالی کے ساتھ اپنی سروسز کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدمات کریں۔حکام نے کالر موبائل آپریٹرز سے ان علاقوں میں انفراسٹرکچر اپ گریڈ کرنے، 2 جی سروس کو 3 جی یا 4 جی پر منتقل کرتے کی بھی ہدایت کی ہے۔حکام کو توقع ہے کہ انٹرنیٹ کی بحالی سے ان علاقوں میں تعلم، صحت، کاروبار اور رابطوں کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ قلات کا شمار بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتا ہے۔ جہاں ماضی میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی فورسز پر کالعدم بلوچ مذاحمتی تحریکوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گزشتہ دنوں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ امن و امان کی وجہ سے بند تھا، مگر اب اس میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے وفاقی حکومت سےان اضلاع میں انٹرنیٹ بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ٹیوٹر پر پی ٹی اے کی پریس ریلز کے ساتھ عوام کو یہ وشخبری سنائی تھی۔انٹرنیٹ سروس معطلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آن لائن صحافت کے شعبے سے وابستہ اور ایک آن لائن ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم بلوچستان پوائنٹ کے مدیر یوسف عجب نے ، جو بلوچستان کے تاریخی ضلع قلات میں سکونت پذیر ہیں، بتایا کہ وہ22 مئی سال 2017 کو وہ اپنے دفتر میں اپنی ویب سائیٹ کے لیے خبریں بنا رہے تھے کہ اچانک ان کا انٹر نیٹ بند ہو گیا۔ معلوم کرنے پر انہیں پتا چلا کہ قلات اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔یوسف عجب نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بطور آئن لائن صحافی ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ دفتر کے علاوہ ہم جہاں بھی ہوں، ہمارے پاس کام کرنے اور ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔یوسف عجب کے بقول، ‘مجھے گزشتہ 4 برسوں سے انٹرنیٹ کی بندش کے باعث کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس طریقے سے ہم اپنی ویب سائٹ پر کام کرنا چاہتے تھے اس طرح کام نہیں ہو رہا تھا۔دو روز قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بلوچستان کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ بحال کرنے کااعلان کیا۔یوسف عجب کے بقول، ‘قلات میں اب امن و امان کی صورت حال پہلے سے کافی بہتر ہے خصوصاً قلات کے شہری علاقوں میں اب ایسے واقعات نہیں ہوتے جو آج سے پانچ دس سال قبل ہوا کرتے تھے۔
پنجگور کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مکران ڈویثرن میں امن وامان کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے لیکن اب بھی بعض اوقات دہشت گردی کے واقعات ہو جاتے ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔شامیر ضلع پنجگور کے رہائشی ہیں۔ وہ طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔شامیر نے بتایا کہ پنجگور ایک پسماندہ علاقہ ہے اور یہاں انٹرنیٹ کی بندش سے طالب علموں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شامیر کے بقول یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ایسے میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بہت مشکلات ہوئیں خاص طور پر طالب علم طبقہ شدید متاثر ہوا۔شامیر نے بتایا کہ کرورنا وائرس کے دوران جب یونیورسٹی بند تھی اور آن لائن کلاسز لی جا رہی تھیں تو وہ کوئی کلاس جوائن نہیں کر سکے جس سے ان کی تعلیم کا نقصان ہوا۔شامیر بلوچ کے مطابق حکومتی اعلان کے بعد اب پنجگور کے شہری علاقوں میں انڑنیٹ بحال ہو گیا ہے مگر سروس بہتر نہیں ہے۔یاد رہے کہ کورونا وائرس کے دوران حکومت نےجہاں آن لائن کلاسز شروع کیں وہاں بلوچستان کے پانچ اضلاع میں انٹرنیٹ کی عدم موجودگی کے خلاف طلبا تنظیموں نے احتجاج بھی کیا تھا۔قلات میں انٹرنیٹ کی بحالی کے ساتھ ہی مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صحافیوں اور طالب علموں کے علاوہ کاروباری طبقہ بھی اس فیصلے سے مطمئن نظر آتا ہے۔افغانستان سے متصل سرحدی علاقے چمن میں بھی مختلف اوقات میں سیکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ بند ہوتا رہتا ہے۔ مگر ان دنوں چمن میں نیٹ کی 4 جی سروس دستیاب ہے۔قلات اور مکران ڈویژن کے لوگوں کا کہنا ہے کہ چار سالوں تک انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ان کے علاقے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بلوچستان اور دیگر صوبوں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
