Pakistan to raise defence spending by Rs 83 bnتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان کی عوام مہنگائی کی وجہ سے بد حال ہے۔ لوگوں کو کھانے کو آٹا تک بھی نہیں مل رہا ہے لیکن اس دوران پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے یہ اضافہ مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی تنخواہوں اور دیگر ضروری ہتھیار خریدنے کے لیے کیا ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے 80 ارب روپے کی رقم بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں 182 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی تھی۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں ہر فوجی پر سالانہ 26.5 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ ہندوستان کے اخراجات کا ایک تہائی بھی نہیں ہے۔

ڈان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11.3 فیصد افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے گزر رہے سال میں 136 ارب روپے کا اضافہ ہونا متوقع تھا۔ مہنگائی کے لحاظ سے پاکستان کی فوجی قوتوں کے لیے ان کی ضرورت سے 53 ارب روپے کم مختص ہوں گے۔1947 میں ہندوستان سے علیحدہ ملک بننے کے بعد سے 75 سالوں میں سے نصف تک ملک پر پاکستان کی فوج نے حکومت کی ہے۔ فوج منتخب حکومت کی سلامتی اور خارجہ پالیسی میں موثر طریقے سے مداخلت کرتی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان، جنہیں اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا، فوج کی حمایت سے بھی محروم ہو گئے۔ وزارت دفاع نے جناح نیول بیس، تربت نیول بیس اور ہیڈ کوارٹر میں ملٹی فنکشن بلڈنگ سمیت دیگر چیزوں کے لیے 80 ارب روپے کا اضافی دفاعی بجٹ مانگا تھا۔ ای سی سی نے دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے چین سے آنے والی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تیل کمپنیاں 10 فیصد ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنا تیل چین کے راستے پاکستان لاتی تھیں۔پاکستان آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپنے فوجی دستوں کے لیے 1400 ارب پاکستانی روپے سے زائد مختص کرنے جا رہا ہے۔ یہ رواں مالی سال کے دفاعی بجٹ سے تقریبا 83 ارب روپے زیادہ ہوں گے۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مسلح افواج کے لیے 1,453 ارب روپے مختص کیے جائیں گے جبکہ گزشتہ سال 1,370 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ بنیادی طور پر ملازمین سے متعلقہ اخراجات، تنخواہوں اور الاؤنسز پر خرچ کیا جائے گا۔

پاکستان نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اس کی معیشت انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ ادھر خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے معاشی بحران کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سری لنکا کی نقل کر رہا ہے۔ سری لنکا کی طرح پاکستان بھی اپنی غلطیوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کی بھوک نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *