Peshawar ATC acquits activist Gulalai Ismail’s parents in sedition caseتصویر سوشل میڈیا

پشاور،(اے یو ایس)سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والدین کو بغاوت کے مقدمے میںبری کردیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروفیسر محمد اسماعیل اور ان کی اہلیہ کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولیت کاری کے الزامات تھے۔ الزمات کے سلسلے میں جولائی2019میں مقدمہ درج کیاگیا بعد میں ایک سال کے بعد انہیں رہاکیاگیا لیکن ایک ماہ کے بعد سیکورٹی اداروں نے ان کے خلاف یہی مقدمہ کھول کر عدالت میں پیش کیا اور انہیں پھر سے گرفتار کیاگیا۔ لیکن ان کے والدین نے ان پر عائد کئے گئے الزامات کو نکارہ۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیاگیا اس لئے ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی ۔ پولیس نے کہا تھا ۔

گلالئی اسماعیل کے والدین نے دہشت گردوں کو نہ صرف اسلحہ فراہم کیا بلکہ ایک کار مہیا کی یہ دہشت گرد چرچ اور شیعہ مسجد پر حملوں میں ملوث تھے۔ اس موقع پر محسن داور نے اطمینان کی سانس لیا اور کہا کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ خارج کیاگیا کئی سالوں سے ان کو پریشان کیا جارہا تھالیکن ان کے حوصلے ہمیشہ بلند رہے۔

گلالئی اسماعیل نے بھی کہا کہ انہیں یہ امید تھی کہ آخر کار ان کے والدین کے ساتھ انصاف ہوگا۔ ان کے والدین کو پشتون تحفظ مومنٹ کے ہمدرد مانا جاتا ہے۔ گلالئی اسماعیل کے خلاف بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میںدو مقدمہ چل رہے ہیں۔محکمہ انسداد دہشت گردی نے الزام لگایا کہ گلالئی اسماعیل ایک تنظیم کی چیئرپرسن اور وہ اس کی آڑ میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کررہی ہے۔گلالئی کو 2019میں اس وقت روپوش ہوگئی جب ان کے خلاف اسلام آباد میں انتشار کرانے کے سلسلے میںمقدمہ درج کیاگیا بعد ازاں وہ امریکہ میں منظر عام پر آئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *