Pakistani Taliban extend truce with government in Islamabadتصویر سوشل میڈیا

پشاور: حکومت پاکستان اور کالعدم تنظیم تحریک پاکستان نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان افغانستان سے متصل قبائلی علاقے میں تقریباً دو دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پہلے جنگ بندی کی مدت 30 مئی کی رات کو ختم ہوئی جسے اب غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

ڈان اخبار نے منگل کے روز پیش رفت سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ جنگ بندی میں توسیع اس بات کی علامت ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔قابل غور ہے کہ ٹی ٹی پی کو پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے۔ سال 2007 میں کئی دہشت گرد تنظیموں کو ملا کریہ مشترکہ گروپ کوبنایا گیا تھا۔ ٹی ٹی پی کا بنیادی ہدف پاکستان میں سخت اسلام نافذ کرنا ہے۔ ٹی ٹی پی کے بارے مانا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے قریب ہے اور پاکستان میں کئی بڑے حملوں کا ذمہ دار ہے ، جس میں 2009 میں پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ ، دیگر فوجی اڈوں پر حملے اور اسلام آباد میں 2008 کے ہوٹل میریئٹ پر بم دھماکہ شامل ہے۔

ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے بتایا کہ افغانستان کی طالبان کی زیرقیادت حکومت کے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند سے ان کے دفتر میں ملاقات کے بعد دونوں فریق جنگ بندی بڑھانے اور امن مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہوگئے۔ان ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے ساتھ اخوند کی ملاقات کے دوران انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جنگ بندی اور مذاکرات بغیر کسی اختتامی تاریخ کے جاری رہیں۔ اس کے بعد ہونے والے دونوں فریقوں کی میٹنگ میں جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ، تاکہ تنازعہ ختم کیا جاسکے ، جس کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقے اور پورے پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد کوبے گھر ہونا پڑا ہے اور ہزاروں لوگ مر چکے ہیں۔

افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے اس ماہ کے شروع میں بیانات جاری کرتے ہوئے جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ پیش رفت افغان دارالحکومت میں دونوں فریقوں کے سینئر سطح کے وفود کے درمیان شدید مذاکرات کے بعد ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ وہ کسی سمجھوتے کے قریب ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آ گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *