گورداسپور (ونود گپتا) : پاکستان کے ضلع جہلم کے علاقے چھوٹالہ تھانہ کے سنگھوئی علاقے سے اغوا کی گئی ایک ہندو لڑکی کو پولیس نے دیر رات گئے بہاولپور کے علاقے سے بازیاب کرا لیا۔ ہندو لڑکی کو تقریباًایک ہفتہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق متاثرہ کی والدہ کی شکایت پر 7 جون کو درج کی گئی ایف آئی آر درج مطابق لڑکی اور اس کا خاندان صوبہ سندھ کے شہر بدین سے سنگھوئی کے زمیندار راجہ ظفر کے فارم ہاؤس میں کام کرنے کے لیے شفٹ ہو ئے تھے۔
متاثرہ کی والدہ نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا تھا کہ 6 جون کو وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ فارم ہاؤس پر کام سے واپس آرہی تھی جب وہ راستے میں واش روم استعمال کرنے کے لیے رکی اور اس کی بیٹی واش روم گئی تو ملزم اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گیا۔ اس وقت متاثرہ کی والدہ کو شبہ تھا کہ اس کی بیٹی کو فارم ہاو¿س کے مالک راجہ ظفر کے کہنے پر اس کی عصمت دری کرنے کی نیت سے اغوا کیا گیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے راجہ ظفر کے ملازم سماعت علی کو گرفتار کر لیا۔ سماعت علی نے اعتراف کیا کہ اس نے لڑکی کو شاہ ظفر کے کہنے پر اغوا کیا تھا اور اسے شاہ ظفر کے بتائے ہوئے مقام پر لے جا کر اسے شاہ ظفر کے حوالے کر دیا تھا۔ پولیس نے لڑکی کا علاج کیا اور طبی طور پر تصدیق کی کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ پولیس مفرور راجہ ظفر کی تلاش کر رہی ہے۔
تصویر سوشل میڈیا