نیو یارک:پاکستان افغانستان کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر افغانوں کی امانت کی شکل میں جمع ان کے اثاثے جاری نہ کیے گئے تو افغانستان سطح غربت سے بھی کافی نیچے چلا جائے گا۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بیرون ملک ا افغانستان کے اثاثوں کے اجراکے ساتھ ساتھ اس کے بینکنگ نظام پر نظر ثانی کے ذریعے افغان معیشت کی بحالی پر زور دیا اور کہا کہ اگر اثاثے جاری نہ کیے گئے تو افغان عوام کو طویل غربت کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ افغانستان کی تقریباً 95 فیصد آبادی نہایت درجہ غربت کی شکار ہے۔
دریں اثنا امارت اسلامیہ کی وزارت اقتصادیات نے کہا کہ اگر منجمد افغان اثاثے جاری کی کر دیے گئے تو افغانستان کی غربت میں کمی آئے گی۔ امارت اسلامیہ کے نگراں وزیر برائے اقتصادیات عبداللطیف نظری نے کہا کہ طالبان کے بر سر اقدار آنے کے بعد افغانستان کے 9 بلین ڈالر سے زیادہ اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے اور افغانستان میں غربت کی ایک بڑی وجہ امریکا کی جانب سے افغان اثاثوں کو منجمد کرنا ہی ہے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کو ترقیاتی امداد پہنچانے پر غور کرے۔،
ایک ماہر اقتصادیات سیار قریشی نے کہا کہ اگر طالبان اقوام متحدہ کی پابندیوں سے آزاد اور یورپی یونین کی بلیک لسٹ سے بھی نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں سفارت کاری کے ذریعے اپنے مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ واضح ہو کہ جب سے امارت اسلامیہ نے افغانستان کی عنان حکومت سنبھالی ہے بین الاقوامی برادری کی جانب سے امداد معطل کرنے اور غیر ملکی ذخائر میں ملک کے 9.5 بلین ڈالر کے اثاثے منجمد ہونے کے بعد افغانستان بحران کے عمیق گڑھے میں جا گرا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 