Palestinian gunmen kill Israeli settler in West Bankتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب(اے یو ایس ) مقبوضہ مغربی کنارے میں بعض مسلح فلسطینیوں نے ایک یہودی آباد کار کو ہلاک کر دیا ہے۔اس واقعہ کی ذمہ داری صدر محمود عباس کی جماعت فتح سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی مسلح گروپ نے قبول کی ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے منگل کے روز اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے کی سرحد سے قریباً چھے کلومیٹر (چار میل) دور واقع یہودی بستی ہرمیش کے مکین کو اس کی کار ہی میں گولی مارکرہلاک کردیا ہے۔وہ بستی کے قریب ہی گاڑی چلا رہا تھا۔طبی حکام نے کہا ہے کہ مقتول یہودی آبادکار کی عمر 30 سال تھی۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی تلاش جاری ہے۔ الفتح سے منسلک الاقصیٰ شہدائ بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملہ اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کا بدلہ چکانے کے لیے کیا ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اور آنے والے دیگر آپریشن ہمارے شہیدوں کی موت پر ہمارے درد کو کم کرنے کا حتمی جواب نہیں ہوں گے۔ہمارا درد بہت زیادہ ہے اور اسی طرح ہمارا انتقام بھی بڑا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں مارچ 2022 کے بعد سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل نے اپنے شہروں میں سڑکوں پر حملوں کے بعد فلسطینیوں کے خلاف فوج کی چھاپا مار کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔صہیونی فوج مغربی کنارے میں واقع فلسطینی شہروں اور قصبوں میں آئے دن چھاپامارکارروائیاں کرتی رہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *